عمران خان کے ساتھ نامناسب سلوک: برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ گولڈ اسمتھ کا سیکریٹری خارجہ کو خط، فوری مداخلت کا مطالبہ

سپریم کورٹ احکامات پر عمل درآمد، آزادانہ طبی علاج، جیل میں طویل تنہائی کے خاتمے اور خاندانی رسائی کا مطالبہ

August 21, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن / اسلام آباد: برطانوی ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) کے رکن لارڈ گولڈ اسمتھ نے برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کو خط لکھ کر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں برتے جانے والے سلوک اور صحت کی خدشات کے پیش نظر برطانوی حکومت سے فوری سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

21 اگست 2026 کو لکھے گئے خط میں لارڈ گولڈ اسمتھ نے پاکستانی حکام کے رویے کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

خط کے اہم نکات:

لارڈ گولڈ اسمتھ کے مطابق 18 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور آزاد طبی پینل سے معائنہ کروانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم 20 اور 21 اگست کی درمیانی رات انہیں شفا کی بجائے پمز منتقل کیا گیا اور راتوں رات سرسری معائنے کے بعد صبح ہونے سے پہلے ہی واپس جیل بھیج دیا گیا۔

عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نے 10 ماہ کے طویل عرصے بعد اپنے بھائی سے ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے جیل میں شدید تنہائی، بلاوجہ کی پابندیوں اور نفسیاتی و جسمانی دباؤ کا ذکر کیا اور مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی مثال دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

لارڈ گولڈ اسمتھ نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان کی تعلیم برطانیہ میں ہوئی اور ان کے دو بیٹے سلیمان اور قاسم برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے سیکریٹری خارجہ سے زور دے کر کہا کہ اس معاملے کو محض “مانیٹر” کرنے کے بجائے برطانوی حکومت اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے براہِ راست اور واضح الفاظ میں بات کرے تاکہ عمران خان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

 خط میں لارڈ گولڈ اسمتھ نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ، پاکستان سے درج ذیل امور کی یقینی دہانی کروائے۔سپریم کورٹ کے احکامات پر روح اور لفظ دونوں کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین، آزاد ماہرینِ صحت، وکلائے صفائی اور اہلخانہ (بیٹوں، بہنوں) تک بلا تاخیر رسائی دی جائے۔

جیل میں بین الاقوامی معیار کے برخلاف طویل اور شدید تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔ان کے خلاف تمام مقدمات میں شفافیت، آزادی اور انصاف کے بنیادی تقاضے پورے کیے جائیں۔

لارڈ گولڈ اسمتھ نے زور دیا کہ اگر پاکستانی حکومت ان امور کی ضمانت نہیں دیتی تو برطانیہ کو سخت سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں لندن میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا جائے۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کے ذریعے اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت کی جائے،امریکہ، یورپی یونین اور کامن ویلتھ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے،

اقوامِ متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کے عالمی پلیٹ فارمز پر معاملہ اٹھانا، اور انسانی حقوق کی شدید ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر غور شامل ہے۔