ٹرمپ کی ایران کے شراکت داروں کو پابندیوں کی دھمکی،تیل مہنگا
برینٹ خام تیل کی قیمت میں 61 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 94.39 ڈالر ہوگئی
فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت یا تعاون کرنے والے ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں 61 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 94.39 ڈالر ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 23 سینٹ مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 87.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 5 فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی دھمکی نے عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ بحری نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف 7 تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد اس سے بھی کم تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چینی خریداروں کو ایرانی تیل کی فراہمی میں کمی آئی ہے اور ایرانی خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران کی تیل برآمدات پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں۔