ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دیدیا، ایران پر بمباری کا عندیہ
آبنائے ہرمز کو بحری ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول رکھتا ہے۔
اس بات کا دعویٰ امریکی صدر نے جمعہ کی شب جنوبی کیرولائنا میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم جیتے ہیں یا نہیں کیونکہ میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں۔
صدر ٹرمپ کے بقول امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے اور کوئی بھی جہاز اس وقت تک وہاں سے گزر نہیں سکتا جب تک امریکا اس کی اجازت نہ دے۔
آبنائے ہرمز کو بحری ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا ہو، چند روز قبل آبنائے ہرمز کے نقشے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں اس آبی گزرگاہ کو ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا تھا۔
جس پر ایران نے امریکی صدر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق دعووں کو خیالی باتیں قرار دیتے ہوئے انھیں مسترد کردیا۔
آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے ٹرمپ کے دعوے کے باوجود یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اس کی حیثیت سے متعلق امریکی صدر کا یک طرفہ اعلان بین الاقوامی سطح پر ایک انتہائی غیر معمولی مؤقف تصور کیا جا رہا ہے۔