میر رضا کیس میں اہم پیش رفت، پولیس نے موبائل سم اپنے قبضے میں لے لی

بائیومیٹرک تصدیق اور ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سم میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کرکے دوبارہ جاری کی گئی

August 23, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: میر رضا قتلکیس کی تحقیقات میں پولیس کو اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تفتیشی حکام نے میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم حاصل کرلی ہے، جس کے ذریعے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ممکنہ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بائیومیٹرک تصدیق اور ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سم میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کرکے دوبارہ جاری کی گئی۔ تفتیشی ٹیم کا مقصد واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرکے دستیاب چیٹس اور بیک اپ ڈیٹا کا جائزہ لینا ہے۔

پولیس کو میر رضا کی جانب سے بعض قریبی دوستوں کو بھیجے گئے واٹس ایپ پیغامات بھی ملے ہیں، جن میں مبینہ طور پر ان کے مالی اور گھریلو حالات کا ذکر کیا گیا تھا۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوع کے اطراف موجود افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے ہیں، جن میں ایک سیکیورٹی گارڈ، مسجد کے پیش امام، مؤذن اور کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی موت سے قبل آخری 12 گھنٹوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے کر ایک ٹائم لائن تیار کی ہے۔ تفتیش کے مطابق وہ آخری وقت تک سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کے سلسلے میں مختلف افراد سے رابطے میں تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق 27 جولائی کی شام میر رضا نے شارع فیصل پر ایک شخص سے ملاقات کی، جہاں مبینہ طور پر 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بات ہوئی۔ بعد میں مذکورہ شخص نے فون پر سرمایہ کاری سے معذرت کرلی۔

اسی دوران بینک کی جانب سے میر رضا کو ان کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے کے قرض کی منظوری سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیپو سلطان روڈ پر مزید ملاقاتیں کیں اور رات گئے ایک دوست کے ساتھ کھانا بھی کھایا، جبکہ مختلف افراد سے رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔

یاد رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد کے علاقے سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے ملی تھی۔

ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیے جانے کے باوجود اہلخانہ کے اعتراض اور عدالتی حکم پر قبر کشائی کے بعد ہونے والے دوسرے پوسٹ مارٹم میں جسم پر چوٹوں اور تشدد کے نشانات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق کیس میں ابھی مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ مبینہ طور پر استعمال ہونے والا اسلحہ اور بعض دیگر شواہد تاحال برآمد نہیں ہوسکے، جبکہ شواہد ضائع ہونے اور ممکنہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا تعین بھی تفتیشی ٹیم کے لیے اہم چیلنج ہے۔