ہری پور میں معصوم آیت نور کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے خلاف ہڑتال- دھرنے سے روڈ بلاک

جی ٹی روڈ پر احتجاج اتوار کو رات گئے تک جاری رہا، مظاہرین کا چار سالہ بچی کی فوری بازیابی اور پولیس اہلکاروں کی معطل کا مطالبہ۔

August 24, 2026 · قومی
آیت نور کی یادگار تصویر، دوسری جانب ہری پور میں مطاہرے کا منطر

آیت نور کی یادگار تصویر، دوسری جانب ہری پور میں مطاہرے کا منطر

ہری پور شہر میں چار سالہ معصوم بچی آیت نور کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے ہولناک واقعے کے خلاف عوامی غصہ عروج پر پہنچ گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور جی ٹی روڈ پر رات گئے تک شدید احتجاجی دھرنا جاری رہا۔

مظاہرین کی جانب سے جی ٹی روڈ بند کیے جانے کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

معصوم بچی گزشتہ دو ہفتوں سے لاپتہ تھی جس کے بعد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک اٹھارہ سالہ مرکزی ملزم اور اس کے ساتھی کو حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بچی کو اغوا کر کے ایک قریبی گراؤنڈ میں لے گئے جہاں اس کے ساتھ وحشیانہ فعل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو کٹہرے میں لانے کے لیے قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے لیکن عوام کا اصرار ہے کہ محض اعترافِ جرم کافی نہیں جب تک بچی کا اصل سراغ نہیں مل جاتا۔

احتجاج کے دوران صدیق اکبر چوک پر منعقدہ دھرنے سے مقامی سیاسی قیادت اور عمائدین نے بھی خطاب کیا جن میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نمایاں طور پر شامل تھے۔ مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پولیس نے ابتدائی مراحل میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے معصوم بچی کی زندگی خطرے میں پڑی۔ ان کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ اس کیس میں غفلت برتنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ضلعی پولیس افسر خود موقع پر آکر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائیں۔

مظاہرین نے اپنے مطالبات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پولیس روایتی سستی کو ترک کرے اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بچی کو جلد از جلد بازیاب کروائے۔ اس کے علاوہ عوامی اجتماع نے مطالبہ کیا ہے کہ درندہ صفت ملزمان کے خلاف عدالت میں مقدمہ فوری چلا کر انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے اور سرعام سزائیں دی جائیں۔

اتوار کو یہ دھرنا رات گئے تک جاری رہا۔