بھارت میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال،ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات میں سنگین دعویٰ
20 سے 24 جولائی کے دوران دہلی اور بہار کے شہر سیوان میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائرنگ کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس کے لانچر، دستی بم، لاٹھیاں اور برقی جھٹکا دینے والے آلات کے استعمال کی تصدیق کی۔
فوٹو سوشل میڈیا(فیس بک)
نئی دہلی اور بھارتی ریاست بہار میں جولائی کے دوران ہونے والے طلبہ احتجاج کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی تحقیقات میں بھارتی سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کے خلاف غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق اس کی تحقیق میں عینی شاہدین کے بیانات کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ادارے کے ایویڈنس لیب نے 20 سے 24 جولائی کے دوران دہلی اور بہار کے شہر سیوان میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائرنگ کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس کے لانچر، دستی بم، لاٹھیاں اور برقی جھٹکا دینے والے آلات کے استعمال کی تصدیق کی۔
رپورٹ کے مطابق بعض واقعات میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر لاٹھیاں برساتے دیکھا گیا، جبکہ ایمنسٹی نے متعدد ویڈیوز کی بھی تصدیق کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بعض کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے اصولوں اور بھارت کے اپنے پولیس ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں
یہ احتجاج NEET امتحانی بے ضابطگیوں اور مبینہ پرچے کے تنازع سے متعلق تھے۔ مظاہرین حکومت سے امتحانی نظام میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دوسری جانب بھارتی حکام نے طاقت کے غیر ضروری استعمال کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ بعض مقامات پر مظاہرین کے پرتشدد ہونے کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے طاقت استعمال کی گئی۔
معاملے کی حساسیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب بھارتی سپریم کورٹ نے پولیس اور مظاہرین دونوں جانب سے ہونے والے تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے غیر قانونی یا غیر متناسب طاقت استعمال کی۔