میر رضا کیس:جوڈیشل کمیشن کیخلاف درخواست،سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے طلب کرلیا۔

August 25, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے طلب کرلیا۔ کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہوگی۔

تحریری حکمنامے میں عدالت نے بعض قانونی نکات پر وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے عدالت براہ راست ہدایات جاری کرسکتی ہے اور کیا عدالت کسی تفتیشی عمل میں تبدیلی یا اس کی نگرانی کا حکم دے سکتی ہے۔

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر عدالتی مداخلت کی گنجائش کس حد تک موجود ہے۔

میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گمشدگی اور موت کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج ہے، تاہم جائے وقوعہ کو بروقت محفوظ نہ کیے جانے سمیت تفتیش میں متعدد خامیوں کا سامنا رہا۔

درخواست گزاروں کے مطابق گواہوں کے بیانات بروقت ریکارڈ نہیں کیے گئے، الیکٹرانک آلات کا مناسب فرانزک جائزہ نہیں لیا گیا اور ابتدائی مرحلے میں موت کو خودکشی قرار دینے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ میڈیکو لیگل ریکارڈ میں تبدیلیاں سامنے آئیں اور پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قبر کشائی کی سفارش کی۔ بعد ازاں خصوصی میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد لاش کا معائنہ کیا، جبکہ درخواست گزاروں کے مطابق طبی نتائج ابتدائی خودکشی کے مؤقف سے مختلف تھے۔

اہل خانہ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ حتمی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹس نے خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔ سابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کے طرز عمل، شواہد کی حفاظت اور بیانات کے اندراج میں مبینہ تاخیر سے متعلق بھی اعتراضات درخواست کا حصہ ہیں۔

درخواست کے مطابق موجودہ تفتیشی ٹیم تاحال کسی ملزم کی نشاندہی نہیں کرسکی جبکہ چالان جمع کرانے کے لیے مزید وقت بھی طلب کیا گیا ہے۔

اہل خانہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اس میں ایسے افسران شامل کیے جائیں جن کا کیس سے پہلے کوئی تعلق نہ رہا ہو۔

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر اس قانونی سوال کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا عدالت جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے سکتی ہے اور تفتیش کے حوالے سے براہ راست احکامات جاری یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے۔