53 کروڑ 90 لاکھ سال کا ریکارڈ، موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سامنے آگئے
تحقیق کے دوران زمین کے موسمیاتی اور کاربن نظام میں پانچ بڑے اور طویل مدتی مراحل کی نشاندہی کی گئی۔
فائل فوٹو
ایک نئی سائنسی تحقیق میں زمین کی طویل ارضیاتی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی دنیا کی کمزوری کے درمیان اہم تعلق سامنے آیا ہے۔
سائنس دانوں نے تقریباً 53 کروڑ 90 لاکھ سال پر محیط ارضیاتی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران زمین کے موسمیاتی اور کاربن نظام میں پانچ بڑے اور طویل مدتی مراحل کی نشاندہی کی گئی۔
تحقیق کے مطابق ان بڑے موسمیاتی مراحل کے درمیان تبدیلی کے دوران زمین پر موجود حیاتیاتی نظام زیادہ کمزور نظر آیا۔ ایسے ادوار میں حیاتیاتی تنوع پر دباؤ بڑھا اور مختلف جانداروں کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی زیادہ رہا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ گرم موسمیاتی حالات اور موسمیاتی نظام میں تیز تبدیلیاں حیاتیاتی دنیا کو ماحولیاتی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ حساس بنا سکتی ہیں۔ اس صورت میں کوئی اضافی ماحولیاتی یا موسمیاتی تبدیلی زندگی کے لیے زیادہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
تحقیق میں زمین کی پانچ بڑی اجتماعی معدومیوں سمیت مختلف ادوار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیاتیاتی کمزوری اور زمین کے موسمیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے درمیان نمایاں تعلق موجود رہا ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد موجودہ دور میں کسی مخصوص جاندار یا پوری انسانیت کے اجتماعی خاتمے کی پیش گوئی کرنا نہیں۔ تحقیق بنیادی طور پر ماضی کے ارضیاتی ریکارڈ سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے کہ موسمیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے دوران حیاتیاتی دنیا کس طرح متاثر ہوتی رہی۔
موجودہ دور میں عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور تیزی سے بدلتا ہوا ماحول اس تحقیق کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ماضی کے شواہد یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ تیز رفتار موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع کے لیے مستقبل میں کس نوعیت کے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
تحقیق کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا زمین کی تاریخ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑی حیاتیاتی کمزوری موجودہ دور کے لیے بھی کوئی اہم سبق رکھتی ہے؟