آئی ایم ایف نے حکومت کے ٹھیکے دینے پر بھی شرائط عائد کردیں
یہ اقدامات آئی ایم ایف کے گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ ایکشن پلان سے بھی منسلک ہیں
فائل فوٹو
اسلام آباد: حکومت نے سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور احتساب بہتر بنانے کے لیے نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا مسودہ تیار کرلیا ہے، تاہم سرکاری اداروں کو مسابقتی بولی کے بغیر براہ راست ٹھیکے دینے کے معاملے پر پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔
مجوزہ قوانین کے تحت سرکاری کاموں کے ٹھیکے دینے کے عمل میں شفافیت بڑھانے کے لیے متعدد نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔ حکام کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کی اہلیت سے متعلق بھی سخت معیار مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قواعد کے مطابق وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ محکموں کے سربراہان کو سرکاری ٹھیکے دینے کے عمل میں واضح ذمہ داری سونپی جائے گی۔ ایسے ٹھیکیدار، مالکان، بینیفیشل مالکان یا ڈائریکٹرز جن کا ماضی میں دیوالیہ پن کا ریکارڈ ہو یا وہ سنگین نوعیت کے عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہے ہوں، انہیں سرکاری خریداری کے لیے بولی میں حصہ لینے سے روکنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
یہ اقدامات آئی ایم ایف کے گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ ایکشن پلان سے بھی منسلک ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو 2004 کے پرانے قوانین کی جگہ نئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رولز 2026 منظور کرکے نافذ کرنا تھے، تاہم سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے معاملے پر اختلاف کے باعث مقررہ مدت متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے اقتصادی حکمرانی سے متعلق کمیٹی کو بتایا ہے کہ مجوزہ قواعد کی وزیراعظم آفس سے توثیق ہوچکی ہے اور اب انہیں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے معاملات (CCLC) کی منظوری درکار ہے۔
براہ راست معاہدوں سے متعلق مجوزہ رول 32-F پر تاہم ابھی مکمل اتفاق نہیں ہوسکا۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں کو مسابقتی بولی کے بغیر براہ راست ٹھیکے صرف غیر معمولی حالات میں دیے جانے چاہئیں اور ایسے معاملات کی مکمل دستاویزات اور وجوہات ریکارڈ پر لانا ضروری ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ایسے براہ راست معاہدے ای پروکیورمنٹ اینڈ ڈسپوزل سسٹم (E-PADS) کے ذریعے کیے جائیں اور سرکاری ادارے منصوبوں یا خدمات کی تکمیل میں نجی شعبے کو بطور پارٹنر شامل کیے بغیر اپنے وسائل استعمال کریں۔
خصوصی نوعیت کے کاموں کے لیے ذیلی ٹھیکے دینے کی ضرورت پڑنے پر آئی ایم ایف نے 40 فیصد کی حد تجویز کی ہے۔ حکومت نے اس حد کو تسلیم کرنے کے ساتھ مالیاتی حدود میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی گنجائش رکھنے کی تجویز بھی دی ہے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں کو بولی کے بغیر منصوبے حاصل کرکے بعد میں انہیں نجی کمپنیوں کو منتقل کرنے کے طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے شفافیت متاثر ہونے اور بدعنوانی کے امکانات بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔
مجوزہ قوانین کا بنیادی مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف، مسابقتی اور جوابدہ بنانا جبکہ ایسے انتظامی خلا کو ختم کرنا ہے جو مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا سبب بن سکتے ہیں۔