سانحہ پمز: بچوں سے محروم ماؤں کے سوالات، تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ
واقعے کے دوران ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر عملے کی موجودگی اور بروقت کارروائی سے متعلق بھی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین نے انتظامات اور امدادی کارروائیوں پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
غمزدہ ماؤں اور اہلخانہ نے حکام سے سوال کیا کہ اگر آتشزدگی کے وقت وارڈ میں متعلقہ عملہ موجود تھا تو صرف نومولود ہی متاثر کیوں ہوئے؟ ان کے مطابق واقعے کے دوران ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر عملے کی موجودگی اور بروقت کارروائی سے متعلق بھی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
لواحقین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (NICU) کو مبینہ طور پر لاک کیوں رکھا گیا اور آتشزدگی کے دوران عملہ کہاں موجود تھا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور پولیس کی آمد میں تاخیر سے متعلق بھی حقائق سامنے لائے جائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امدادی اداروں کو اطلاع دینے، جائے وقوعہ پر پہنچنے اور کارروائی شروع کرنے کے مکمل ٹائم لائن کی تحقیقات کی جائیں۔
لواحقین نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کی بروقت عدم موجودگی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ واقعے کے دوران تمام متعلقہ افسران اور طبی عملے کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔
غمزدہ والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بچوں کے نقصان کا انصاف چاہیے اور واقعے کے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔