کراچی،پورٹ قاسم اور گوادر پورٹس کی جدید کاری پر کام تیز
بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت بہتر بنانے کے لیے نیویگیشن چینلز کی گہرائی بڑھانے کے ساتھ ہاربر کرافٹس اور کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات بھی جدید بنائی جا رہی ہیں۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں جدید کاری اور اصلاحات کا عمل تیز کردیا گیا ہے، جس کا مقصد ملکی بندرگاہوں کو عالمی تجارت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے اہم مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔
میری ٹائم ریفارمز ایجنڈے کے تحت کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت بہتر بنانے کے لیے نیویگیشن چینلز کی گہرائی بڑھانے کے ساتھ ہاربر کرافٹس اور کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات بھی جدید بنائی جا رہی ہیں۔
اصلاحات کے تحت پورٹ کمیونٹی سسٹم، ویب بیسڈ کسٹمز، فیس لیس کسٹمز، ریئل ٹائم کنٹینر ٹریکنگ اور 24 گھنٹے کسٹمز آپریشنز متعارف کرائے گئے ہیں، جن سے کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز اور شفاف بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
پاکستان کے میری ٹائم شعبے میں بندرگاہوں کو ملک کے صنعتی اور تجارتی مراکز سے جوڑنے کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ این ایل سی، کے پی ٹی پپری ریلوے لنک، بارج آپریشنز اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کے ذریعے بندرگاہوں کو صنعتوں، گوداموں اور اندرونِ ملک منڈیوں سے منسلک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
حکومت کی جانب سے شپنگ پالیسی 2026، ٹرانس شپمنٹ پالیسی، نجی شپنگ، جہاز سازی اور شپ ریپئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
گوادر پورٹ پر وِٹول کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن بھی مکمل کیا گیا، جس کے دوران ایک ایل این جی کیریئر کو 2,500 میٹرک ٹن مقامی میرین فیول فراہم کیا گیا۔
میری ٹائم شعبے میں جہازوں کی ری سائیکلنگ، گڈانی ویسٹ مینجمنٹ، شرمپ فارمنگ، فشرریز اور آبی زراعت جیسے منصوبوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جنہیں پاکستان کی بلیو اکانومی کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے اہم ذرائع قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جدید بندرگاہوں، بہتر ٹرانسپورٹ رابطوں، ڈیجیٹل کسٹمز نظام اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کے ذریعے پاکستان کی بحری صلاحیت کو معاشی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔