امریکا نے’فلسطین ایکشن‘کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
فلسطین ایکشن کا قیام 2020 میں عمل میں آیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کے خلاف احتجاجی اور براہِ راست کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی حکومت نے برطانیہ میں سرگرم فلسطین ایکشن کو ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پابندیاں عائد کردی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق فلسطین ایکشن پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی حمایت کا الزام ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب برطانیہ بھی پہلے ہی تنظیم پر پابندی عائد کرچکا ہے اور تنظیم اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رہی ہے۔
فلسطین ایکشن کا قیام 2020 میں عمل میں آیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کے خلاف احتجاجی اور براہِ راست کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، جن میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز بھی شامل ہے۔
برطانیہ میں تنظیم پر پابندی کے بعد اس سے وابستہ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے برطانوی اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور سیاسی اختلاف کو محدود کرنے کے خدشات موجود ہیں۔
امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا عموری نے کہا کہ تنظیم کا مقصد اسرائیلی فوجی صنعت کے خلاف کارروائی کرنا اور فلسطینیوں کی جانیں بچانے کی کوشش کرنا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے تنظیم کو دہشت گرد قرار دینا شہری آزادیوں اور آزادی اظہار کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔
فلسطین ایکشن اپنے مؤقف میں اسرائیلی پالیسیوں اور غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے اسرائیل کو حاصل بین الاقوامی تعاون ختم کرنے کی کوششوں کو اپنی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد تنظیم کی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل ہوئی اور اس نے اسرائیل سے منسلک دفاعی اداروں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا۔
امریکی حکومت نے فلسطین ایکشن کے علاوہ اٹلی میں قائم گروپ ’Autistici/Inventati‘ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ’Masar Badil‘ نامی گروپ پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی حکام نے ان تنظیموں کو پرتشدد انتہائی بائیں بازو کے گروپس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ان کے خلاف معاشی پابندیوں سمیت دستیاب تمام اختیارات استعمال کرے گا۔
دوسری جانب فلسطین ایکشن اور اس کے حامی امریکی اور برطانوی اقدامات کو احتجاج اور فلسطینیوں کی حمایت میں کی جانے والی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان اقدامات کے بعد آزادی اظہار، احتجاج کے حق اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔