ایرانی صدر نے علاقائی اسلامی ملکوں میں سلامتی معاہدےکی تجویز پیش کردی

مسلمانوں کو علاقائی خودمختاری کا احترام اور ایک دوسرے کےخلاف سرزمین استعمال نہ کرنے کی ہدایت

August 27, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی سلامتی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ’مشترکہ سکیورٹی کے انتظامات‘ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر پزشکیان نے یہ بات 27 اگست کو تہران میں منعقدہ اسلامی اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور خطاب کے دوران انھوں نے مسلمان پڑوسی ممالک کے درمیان ثالثی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ایک مستقل نظام کے قیام کی تجویز پیش کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے درمیان کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو ہمیں اسے خود حل کرنا چاہیے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ’ایران ایسے انتظامات کی تشکیل کے لیے اپنے پڑوسی ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ تہران یہ پیشکش ’کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر کر رہا ہے۔

انھوں نے تہران کے اس مؤقف کا بھی اعادہ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں،(جن میں خطے کے ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں) کو ان ممالک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کا دفاع کرنے کا مطلب ہمسایہ ممالک یا مسلم ممالک کے ساتھ دشمنی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ تنازع نے خطے کے ممالک کے درمیان قریبی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ سکیورٹی انتظامات کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے

صدر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے لیے پلیٹ فارم بننے سے گریز کرنا چاہیے۔

انھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کا احترام کریں اور اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی مسلم سرزمین کو کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف جارحیت کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے۔