شرح سود کم ہونے سے اسٹیٹ بینک کے سالانہ منافع میں 509 ارب روپے سے زائد کی کمی
،اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-2026 کی رپورٹ جاری کردی، حالیہ ختم سال میں 1,990.35 ارب روپے کا خالص منافع ہوا
شرح سود میں کمی کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سالانہ منافع میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ مالی سال 2025-2026 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں 1,990.35 ارب روپے کا خالص منافع حاصل ہوا ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔
اعلامیے کے مطابق مالی سال 2024-2025 میں اسٹیٹ بینک نے 2,499.80 ارب روپے کا ریکار ڈ منافع کمایا تھا۔
اعلامیے کے مطابق ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے منافع میں 509 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ ہوئی۔ اسٹیٹ بینک نے منافع میں کمی کی وجہ پالیسی ریٹ (شرح سود) کو قرار دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث اسٹیٹ بینک کی سودی آمدن میں نمایاں طور پر نیچے آئی ہے، اسٹیٹ بینک کی سود اور مارک اپ سے حاصل آمدن 2,827 ارب روپے سے کم ہو کر 2,100 ارب روپے رہ گئی۔
اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کو فوریکس ایکسچینج میں 76.34 ارب روپے کا منافع ہوا جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک کو کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے 54.65 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔
اسٹیٹ بینک کی ڈیویڈنڈ آمدن میں 319 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی آمدن 57.29 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے آپریٹنگ اخراجات 80.74 ارب سے بڑھ کر 89.16 ارب روپے ہو گئے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کرنسی نوٹوں کی چھپائی پر اخراجات بڑھ کر 29.63 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔