جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
ہوسکتا ہے کہ ہڑتال سےقبل ہی اسلام آباد کی کال دوں، اگر خیبرپختونخوا سے نوجوانوں آئے تو یہ ان سے سنبھالے نہیں جائیں گے
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے تین ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہڑتال سے قبل ہی اسلام آباد کی کال دے دوں، اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو آنے کی کال دوں تو تم سے یہ سنبھالے نہیں جائیں گے۔
لاہور (میڈیا رپورٹس) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ہڑتال سے قبل بھی اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اسلام آباد آنے کی کال دی گئی تو حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔
لاہور مال روڈ پر دھرنے کے 12ویں دن میڈیا کی موجودگی میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ دھرنا 25 کروڑ عوام کے حقوق کی ترجمانی کر رہا ہے۔ حکمرانوں نے تمام تر معاشی بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا ہے جبکہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 13 ہزار اسکول بیچ دیے گئے ہیں اور پمز اسپتال واقعے پر وزیراعظم اور وزیر صحت کو جواب دینا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں 70 فیصد ایسے لوگوں کا ہے جن کی عمریں30 سال ہیں، یہ حکومت ان بچوں کو کچھ نہیں دے رہی صورتحال یہ ہے کہ جو میٹرک کرلیتے ہیں وہ انٹرمیڈیٹ نہیں کر سکتے، جو ان انٹرمیڈیٹ کر لیتے ہیں وہ جامعات میں نہیں جا سکتے، جو دولت کی بنیاد پر صحت کی سہولیتں دے وہ یہی ٹولا ہے اس راج لوٹ کھسوٹ کو بدلنا ہوگا، چہرے نہیں نظام کو بدلنا ہوگا۔
سربراہ جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کےلئے نکلے ہیں انہیں یہی پریشانی ہے، ہماری ہڑتال پرامن ہوگی، ہم پر امن لوگ ہیں، پورا پنجاب، بلوچستان اور سندھ ہمارے ساتھ ہوگا، پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، یہ ریاست عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہی ہے، پمز میں پھول جیسے بچے حکمرانوں کی نااہلی کا نشانہ بنے، 14 بچوں کی اموات کرپشن اور نااہلی کے باعث ہوئیں، یہ ایک اسپتال بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلا سکتے، پمز اسپتال میں حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات کیا ہیں؟ وہ یہ ہیں کہ جب تم لیوی کی قیمت بڑھاتے ہو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ہمارا دوسرا مطالبہ آئی پی پیز کا ہے، کمرشل، صنعتی اور گھریلو بجلی بل کا الگ الگ کرنا ہوگا، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، پورے ملک میں روٹی کی قیمت 10 روپے کی جائے، ہمیں اپنی ذات اور پارٹی کےلئے کچھ نہیں چاہیے، میں ہڑتال کے بعد اسلام آباد کے نوجوانوں کو بھی کال دوں گا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہڑتال سے قبل اسلام آباد کی کال دے دوں، اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو آنے کی کال دوں تو تم سے یہ سنبھالے نہیں جائیں گے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کی سرپرستی کردیں تو وہ پاکستان کی ایکسپورٹ کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتے ہیں، بجلی تو استعمال نہیں ہورہی مگر آئی پی پیز کو کروڑوں روپے دے رہے ہیں، چادر اور چار دیواری بھی محفوظ نہیں ہے، اس پنجاب میں مریم نواز کے پنجاب میں مائیں بہنیں محفوظ نہیں ہیں، ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اگر ہے تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کرپشن کا پیسہ ہے جس میں تم تین ماہ بعد ماؤں اور بہنوں کو لائنوں میں لگادیتے ہو، قوم کے بچوں کو پڑھاتے نہیں ہو۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ اس موقع پر تاجر برادری کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے، پورے پاکستان کی ایک آواز ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم اور لیوی کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔