اذیت ناک تکالیف، کیا آیت نور کا قتل ڈارک ویب کیلئے کیا گیا؟

ہاتھ بنددھے ہوئے، لاش بوری میں بند، کیا کوئی آن لائن دیکھ رہا تھا- دیگر کیسز سے مماثلت

August 28, 2026 · امت خاص
آیت نور کی یادگار تصاویر ایک میں والد کے ساتھ

آیت نور کی یادگار تصاویر ایک میں والد کے ساتھ

ہری پور میں پانچ سالہ آیت نور کے قتل کے بعد تفتیش کے انداز اور لاش کی حالت پر اٹھنے والے سوالات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے: کیا یہ جرم صرف مقامی زیادتی اور قتل تھا، یا اس میں آن لائن دیکھنے یا غیر قانونی مواد کی تیاری کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے؟ ابھی تک پولیس یا عدالت نے ڈارک ویب سے تعلق کی تصدیق نہیں کی۔ یہ سوال سوشل میڈیا اور کچھ مبصرین کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے۔*

آیت نور 10 اگست کو پٹھان کالونی میں گھر کے قریب کھیلنے نکلی اور لاپتہ ہوگئی۔ 24 اگست کو یونیورسٹی روڈ کے قریب گودام کے خشک کنویں سے اس کی لاش ملی۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق زیادتی ہوئی اور موت خون بہنے اور صدمے سے واقع ہوئی۔ چار ملزمان گرفتار ہوئے۔ تفتیش سی سی ٹی وی اور جیو فینسنگ پر مبنی رہی۔

مصنف نواب عادل رندھاوا نے تفتیش کاروں سے کہا کہ لاش کو بوری میں بند کرنا، منہ اور چہرے پر ٹیپ، ہاتھ پیچھے باندھنا اور کنویں میں پھینکنا معمول کی چھپانے کی کوشش سے زیادہ منظم لگتا ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص یہ عمل آن لائن دیکھ رہا تھا۔ یہ دعویٰ ابھی قیاس ہے، ثبوت نہیں۔

ایسا سوال پاکستان میں پہلی بار نہیں اٹھا۔ جولائی 2026 میں کراچی کے لی مارکیٹ علاقے میں چھ سالہ محمد ولی گھر سے چیز لینے نکلا اور لاپتہ ہوگیا۔ دو دن بعد اس کی لاش بوری میں بند حالت میں ملی۔ پڑوسی حمزہ گرفتار ہوا اور عدالت کے سامنے زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا۔ لاش الماری میں چھپائی گئی، پھر عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ اس کیس میں بھی لاش کو بوری میں بند کرنے کا طریقہ سامنے آیا۔

جون 2026 میں کراچی کے قائد آباد میں تین سالہ کلثوم کی لاش آٹے کی بوری میں گھر کے قریب چھوڑی گئی۔ پوسٹ مارٹم میں جنسی حملے کی تصدیق ہوئی۔

اس سے پہلے 2018 میں قصور کی سات سالہ زینب انصاری کا کیس ملک بھر میں احتجاج کا باعث بنا۔ اس کی لاش کچرے کے ڈھیر پر ملی۔ قاتل عمران علی کو سیریل کیسز سے جوڑا گیا اور سزا ہوئی۔ قصور میں پہلے بھی بچوں کے استحصال کی ویڈیوز بنانے اور دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ 2019 میں اسلام آباد میں دس سالہ فریشتہ کی لاش جنگل سے ملی، جس پر تشدد اور زیادتی کے آثار تھے۔

عالمی سطح پر بعض تحقیقات میں بچوں کے خلاف جرائم کو خفیہ آن لائن نیٹ ورکس سے جوڑا گیا ہے، جہاں گمنامی کی وجہ سے مواد کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایف آئی اے نے ڈارک ویب سے متعلق جرائم کی نگرانی کے لیے یونٹ قائم کیا ہے، مگر آیت نور کیس میں ابھی ایسا کوئی سرکاری دعویٰ سامنے نہیں آیا۔