عمران کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہونے پر پی سی بی نے لارڈز ٹیسٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی
اسکائی نے کچھ تاخیر سے انٹرویو چلا دیا، دھمکی کے باوجود پاکستان نے میچ جاری رکھا، غیرملکی میڈیا کا دعویٰ
عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم لارڈز میں اسکائی نیوز کیلئے انٹرویوزدے رہے ہیں
غیرملکی خبر رساں ادارے اور صحافی دعوی کر رہے ہیں کہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز میں جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے برطانوی براڈکاسٹر اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے دونوں بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر شدید اعتراض کیا اور لنچ کے بعد کھیل کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی۔ تاہم اس کے باوجود انٹرویو نشر ہو گیا اور پاکستان نے کھیل بھی جاری رکھا۔
معروف ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پاکستان نے انٹرویو پر سکائی نیوز کو شکایت کی اور کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں جانے سے روکنے کی دھمکی دی۔
سینئر کرکٹ صحافی وکرانت گپتا کے مطابق یہ انٹرویو ٹیسٹ سے ایک روز پہلے لارڈز کے لانگ روم میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سابق انگلینڈ کپتان مائیکل ایتھرٹن نے یہ تقریباً 18 منٹ کا انٹرویو کیا۔ ایتھرٹن ان 21 سابق کپتانوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے پاکستانی وزیرِ اعظم کو خط لکھا تھا۔ پی سی بی نے اسکائی سے کہا کہ لنچ بریک کے دوران یہ انٹرویو نہ چلایا جائے ورنہ کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں نہیں آئیں گے۔ اسکائی نے پہلے انٹرویو میں تاخیر کی، پھر اسے نشر کر دیا۔ انٹرویو ختم ہونے تک پاکستانی کھلاڑی میدان میں واپسی کی تیاری کر رہے تھے اور 2:40 بجے سیشن شروع ہو گیا۔
ایتھرٹن کے انٹرویو میں قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی جیل میں صحت، نظر کی کمزوری اور تنہائی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ قاسم خان کا کہنا تھا کہ حکام انہیں جیل میں رکھ کر خاموش کرنا چاہتے ہیں اور “واضح طور پر انہیں مارنے کی کوشش” کر رہے ہیں۔ بیٹوں نے بتایا کہ باپ ایک آنکھ کی تقریباً 80 فیصد بینائی کھو چکے ہیں اور زیادہ تر وقت تنہا سیل میں گزارتے ہیں۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی پاکستان کے وزیرِ داخلہ بھی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بورڈ نے سیاسی نوعیت کے مواد کو میچ کی لائیو کوریج میں شامل کرنے پر اعتراض کیا۔ ای سی بی کی مداخلت کے بعد کھیل جاری رہا۔ کرک انفو کے مطابق پی سی بی سے باضابطہ تبصرہ طلب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے وکرانت کو جواب دیتے وہ بھی لکھا کہ عمران خان کرپشن کے الزامات پر قید ہیں۔
کچھ نے کہا کہ اگر پی سی بی بائیکاٹ کی دھمکی دیتا تو اسے نبھانا چاہیے تھا، واپس لینا کمزوری ہے۔ ایک ردعمل یہ بھی تھا کہ بائیکاٹ کرنے سے عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر زیادہ توجہ جاتی۔