بارہ ربیع الاول کو پیدا ہونے والے بیٹے کا نام محمد رکھا، معمول کے چیک اپ کیلئے نرسری میں دیا

ڈیڑھ گھنٹے بعد لینے گیا تو دروازہ بند اور دھواں تھا، نرس ڈاکٹرز نہیں تھے، پتھر گڑھ کے ادریس کی گفتگو

August 28, 2026 · اہم خبریں
بارہ ربیع الاول کو پیدا ہونے والے بیٹے کا نام محمد رکھا، معمول کے چیک اپ کیلئے نرسری میں دیا

بارہ ربیع الاول کو پیدا ہونے والے بیٹے کا نام محمد رکھا، معمول کے چیک اپ کیلئے نرسری میں دیا

پمز اسپتال میں جن لوگوں نے اپنے نومولود بچے کھوئے ہیں ان میں واہ کینٹ کے قریب پتھر گڑھ کے رہائشی 25 سالہ ادریس خان بھی شامل ہیں جن کے ہاں 4 سال کی دعاؤں اور انتظار کے بعد یہ اولاد ہوئی تھی۔ انہوں نے بدھ کی صبح 3 بجکر 40 منٹ پر اپنے نو مولود بیٹے کو گود میں اٹھایا اور اس کے کان میں اذان دی، اور اس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر محمد رکھا۔ تاہم اس خوشی کا یہ دن چند گھنٹوں بعد ہی ایک نہ ختم ہونے والے صدمے میں تبدیل ہو گیا۔

ادریس خان کے مطابق پیدائش کے فورا بعد ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ بچے کا معمول کا روٹین چیک اپ کیا جانا ہے، اس لیے وہ بچے کو نرسری لے گئے اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ایک گھنٹے کے بعد آ کر اپنا بچہ لے جائیں۔ جب وہ مقررہ وقت پر نرسری واپس پہنچے تو پورا وارڈ دھوئیں اور آگ کی لپیٹ میں تھا۔ ادریس خان نے بتایا کہ جب انہوں نے نرسری کے اندر جانے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے بند تھا اور وہاں کوئی نرس یا ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اور دیگر لوگوں نے مل کر دروازے کو لاتیں ماریں، اپنے ہاتھوں کو زخمی کیا اور دھواں باہر نکالنے کے لیے شیشے توڑے جس کے بعد وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

دوسری جانب پمز ہسپتال نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایمرجنسی راستے مکمل طور پر کھلے اور فعال تھے، اور نرسری کے اندر موجود 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسوں نے فوری طور پر ردعمل دیا تھا۔ پمز کے مطابق آگ صبح 6 بجکر 38 منٹ پر لگی۔

ادریس خان نے اس المناک واقعے کی تمام تر ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ اور حکومت پر عائد کی ہے کیونکہ یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں ان کا بچہ چلا گیا ہے اور ان کا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ اس قسم کے دلخراش واقعات دوبارہ رونما نہیں ہونے چاہئیں۔

ادریس نے کہا کہ حکومت کو صرف اسی وقت پرواہ ہوتی اگر اسپتال میں وزیر صحت کا اپنا بچہ داخل ہوتا۔

ادریس اپنے نومولود بچے کو پتھرگڑھ میں سپردخاک کرنے کے بعد پھر پمز پہنچے ہیں جہاں ان کی اہلیہ زچگی کے بعد بدستور زیر علاج ہیں لیکن ان کی گود خالی ہے۔