افغانستان سے حاصل کردہ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں اب پاکستان میں تسلیم نہیں ہوں گی
پہلے سے ڈگری کے حامل افراد کو بھی ایچ ای سی کے ٹیسٹ سے گزرنا ہوگا، نوٹیفکیشن
افغانستان سے حاصل کردہ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں اب پاکستان میں تسلیم نہیں ہوں گی
وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ افغانستان کے تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں اب تسلیم نہیں کی جائیں گی۔..
یہ فیصلہ 27 اگست 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے دستخط شدہ خط (فائل نمبر F.No. 1(18)/2025-Policy، مورخہ 27 اگست 2026) چیئرمین ایچ ای سی کو جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے افغانستان کے تعلیمی اداروں سے حاصل کردہ تعلیمی ڈگریوں کی توثیق اور مساوات کے حوالے سے پالیسی فیصلہ کیا ہے۔
خط کے مطابق اب کوئی بھی طالب علم افغانستان سے گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کی جو بھی ڈگری حاصل کرے گا، اسے ایچ ای سی تسلیم نہیں کرے گا۔ نتیجتاً ایسی افغان ڈگری پاکستان بھر میں کسی وفاقی یا صوبائی ادارے میں ملازمت یا نوکری کے لیے درست نہیں سمجھی جائے گی۔
اعلان میں کہا گیا کہ گذشتہ عرصے میں افغانستان سے پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے والے افراد کو ایچ ای سی کے باضابطہ ٹیسٹ میکانزم سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد ہر کیس کی علیحدہ علیحدہ بنیاد پر مساوات کا جائزہ لیا جائے گا۔ مقررہ ٹیسٹ اور تشخیص میں کامیابی کے بعد ہی امیدواروں کو سرکاری ایکویلنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
وزارت نے ایچ ای سی سے کہا ہے کہ مجوزہ ٹیسٹ میکانزم تیار کر کے ستمبر کے وسط تک وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کو ارسال کرے۔ موجودہ ڈگریوں کے لیے ایکویلائزیشن سرٹیفکیٹ کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ اس ڈیڈ لائن کے بعد کسی بھی صورت میں نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
خط میں ایچ ای سی سے فوری عملدرآمد اور یہ ہدایات تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی شعبے تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس مراسلے کی کاپیاں چیف کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، تمام صوبوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کے چیف سیکرٹریز، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز، اور تمام صوبوں کے سیکرٹریز تعلیم کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔