پمز آتشزدگی میں جاں بحق لاوارث نومولود علی بھی سپرد خاک

بچے کو اس کی والدہ ہسپتال میں بے سہارا چھوڑ کر چلی گئی تھیں، جس کے بعد پمز کا طبی عملہ ہی اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔

August 29, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پمز کے نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں 26 اگست کو پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے دو ماہ کے بچے علی کی تدفین کر دی گئی۔

ننھے علی کی کہانی سانحے میں جاں بحق ہونے والے دیگر بچوں سے مختلف تھی۔ بچے کو اس کی والدہ ہسپتال میں بے سہارا چھوڑ کر چلی گئی تھیں، جس کے بعد پمز کا طبی عملہ ہی اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق علی تقریباً دو ماہ قبل پمز میں پیدا ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اسے گائنی وارڈ میں رکھا گیا، جہاں اس کی شناخت ایک بے نام بچے کے طور پر تھی اور اس کی کلائی پر ’’بے بی ایچ‘‘ کا ٹیگ موجود تھا۔

بچے کی دیکھ بھال کرنے والی نرسوں نے اسے پیار سے علی کا نام دیا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اسے نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کر دیا گیا، جہاں طبی عملہ اس کی نگہداشت کرتا رہا۔

26 اگست کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں علی سمیت متعدد نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے۔

حادثے کے بعد جاں بحق بچوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی میتیں لے گئے، تاہم علی کی میت وصول کرنے کے لیے کوئی وارث موجود نہیں تھا۔

پمز انتظامیہ نے بچے کی میت مختصر مدت تک مردہ خانے میں رکھنے کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے کارکنوں کے حوالے کر دی۔ ایدھی کے اہلکاروں نے ننھے علی کی نماز جنازہ ادا کی اور اسے اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کر دیا۔

یوں جس بچے کو زندگی میں اپنوں کا سہارا نہ مل سکا، اسے آخری سفر میں ایدھی کے کارکنوں نے تنہا نہیں چھوڑا۔

ننھے علی کی زندگی میں آگے کیا امکانات تھے، یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکے گا، لیکن پمز کے آتشزدگی کے سانحے نے اس معصوم کی زندگی کے تمام امکانات ہمیشہ کے لیے ختم کر دیے۔