حزب اللہ ہتھیار نہیں ڈالے گی، نعیم قاسم کا دوٹوک اعلان
تنظیم کسی بھی ایسے اقدام پر رضامند نہیں ہوگی جس کے نتیجے میں اسے اپنے ہتھیار چھوڑنے پڑیں۔
فائل فوٹو
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے تنظیم کے غیر مسلح ہونے کی تجویز کی مخالفت کردی۔
المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ اس معاہدے کو قبول نہیں کرتی اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کسی بھی ایسے اقدام پر رضامند نہیں ہوگی جس کے نتیجے میں اسے اپنے ہتھیار چھوڑنے پڑیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات جنگ کے بعد شروع ہوئے تھے۔ یہ تنازع حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے دوران اسرائیلی فوج نے لبنان میں فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیاں بھی کیں۔ لبنانی حکام کے مطابق اس جنگ میں 4 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے گئے۔
جون کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات میں ایک مجوزہ فریم ورک پر پیش رفت ہوئی تھی۔ اس منصوبے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور متاثرہ علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی تجاویز شامل تھیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت بعض علاقوں میں مرحلہ وار اقدامات اور نگرانی کے نظام کا بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم نعیم قاسم نے ان تجاویز کو مسترد کردیا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے معاہدے کو لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کسی بھی ایسے طریقہ کار کو تسلیم نہیں کرے گی جس کے ذریعے اس کے ہتھیاروں یا سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے۔
نعیم قاسم نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ حزب اللہ دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔