ایران میں پٹرول کا بحران شدت اختیار کر گیا،پیداوار طلب سے کم ہے،صدر پزشکیان کا اہم بیان

ملک میں روزانہ تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ لیٹر پٹرول تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ روزانہ استعمال کی مقدار تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ سے 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

August 29, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)

تہران: ایران میں پٹرول کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے باعث ایندھن کی صورتحال مزید مشکل ہونے لگی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کو اپنی مقامی پیداوار کے ساتھ بیرون ملک سے بھی پٹرول درآمد کرنا پڑتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں درآمدی راستوں اور مالی وسائل کی مشکلات اس عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث بیرون ملک سے ضروری اشیا کی خریداری بھی مشکل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق پٹرول ان اہم اشیا میں شامل ہے جن کی ایران کو مقامی پیداوار کے علاوہ درآمد کی ضرورت پڑتی ہے۔

مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ اگر درآمدی راستے دوبارہ کھل بھی جائیں تو بیرون ملک سے پٹرول خریدنے کے لیے مالی وسائل کا دستیاب ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف نقل و حمل کے راستے بحال ہونا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا بلکہ خریداری کے لیے درکار رقم کا انتظام بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

پٹرول کی پیداوار اور کھپت میں بڑا فرق

ایرانی صدر کے مطابق ملک میں روزانہ تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ لیٹر پٹرول تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ روزانہ استعمال کی مقدار تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ سے 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران کو حالات کے لحاظ سے روزانہ تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ سے 2 کروڑ لیٹر تک پٹرول کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

طلب اور پیداوار کے درمیان اس فرق نے حکومت کے لیے ایندھن کی مسلسل فراہمی ایک بڑا چیلنج بنا دی ہے۔ پٹرول کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث مقامی پیداوار پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کا اثر

مسعود پزشکیان کے مطابق امریکی پابندیوں اور بحری راستوں کو درپیش مشکلات نے ایران کی بیرونی تجارت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ان حالات کے باعث ملک کی درآمدات اور برآمدات میں تقریباً 25 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی تجارت میں کمی کا براہ راست اثر ملک میں ضروری اشیا کی دستیابی اور معاشی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ پٹرول کی درآمد بھی اسی صورتحال سے متاثر ہونے والی اہم ضروریات میں شامل ہے۔

ایرانی حکومت کو ایک طرف بیرونی دباؤ اور دوسری جانب اندرونی طلب میں اضافے کا سامنا ہے، جس کے باعث ایندھن کے شعبے میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

پٹرول کی قیمت بڑھانے کا بھی اشارہ

ایرانی صدر نے پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے بھی ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ ان کے مطابق کم درجے کے پٹرول کی قیمت 5 ہزار تومان سے بڑھا کر 10 ہزار تومان کیے جانے کی تجویز زیر غور آ سکتی ہے۔

 

https://publish.x.com/?url=https://twitter.com/isna_farsi/status/2093442123307552994#

حکومت کی جانب سے قیمت میں ممکنہ اضافے کا مقصد ایندھن کی بڑھتی ہوئی کھپت کو کنٹرول کرنا اور ملکی وسائل پر دباؤ کم کرنا بھی ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اور اس کے نفاذ کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئیں۔

ہرمز آبنائے اور تجارتی راستوں کی اہمیت

ایران کے لیے آبنائے ہرمز خطے کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی اور پابندیوں کے تناظر میں اس راستے سے متعلق صورتحال نے ایران کی درآمدات اور برآمدات پر اضافی دباؤ پیدا کیا ہے۔

ایرانی قیادت کی جانب سے بارہا اس مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک کو معاشی دباؤ کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات کی فراہمی جاری رکھنی ہے اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے۔

حکومت کو معاشی مسائل حل کرنے کا چیلنج

صدر پزشکیان نے موجودہ صورتحال میں حکومت کو معاشی مشکلات کم کرنے اور عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایران پہلے ہی مہنگائی، روزگار کے مسائل اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ پٹرول کی پیداوار اور کھپت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ان مسائل میں ایک اور اہم عنصر بن گیا ہے۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف عوام اور صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی ایندھن کی طلب پوری کی جائے اور دوسری جانب محدود مالی وسائل اور بیرونی تجارتی رکاوٹوں کے باوجود پٹرول کی درآمد اور مقامی سپلائی کا نظام برقرار رکھا جائے۔

موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے لیے پٹرول کا مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ درآمدات، مالی وسائل، تجارتی راستوں اور بڑھتی ہوئی ملکی طلب سے جڑا ہوا ایک وسیع معاشی چیلنج بن چکا ہے۔