وینزویلا نے امریکا کے ساتھ تیل کے معاہدے کی تصدیق کردی

اس منصوبے کے ذریعے ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

August 29, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے تیل کے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ڈیلسی رودریگیز کے مطابق معاہدے سے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر سے زیادہ ٹیکس آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو وینزویلا کے بڑے تیل ذخائر تک امریکا کی رسائی کے حوالے سے اہم قرار دے چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم معاہدے کی بعض اہم تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، خصوصاً تیل کے ذخائر کی ملکیت، انتظام اور ممکنہ منتقلی کا طریقہ کار۔ ماہرین کے مطابق ان معاملات کی وضاحت معاہدے کی اصل نوعیت سمجھنے کے لیے ضروری ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور وینزویلا متعدد آئل فیلڈز کی ترقی اور پیداوار بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ مختلف نجی کمپنیاں ان منصوبوں میں سرمایہ کاری اور توانائی کی پیداوار بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاہدہ طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار معاہدے کی شرائط اور عمل درآمد پر ہوگا۔