اربوں روپے کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بنائے گئے تو اسپتال کیوں نہیں بن سکے، بیرسٹر دانیال چوہدری

پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے سی ڈی اے کی کارکردگی اور ترجیحات پر سخت تنقید کی ہے۔

August 29, 2026 · قومی
اربوں روپے کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بنائے گئے تو اسپتال کیوں نہیں بن سکے، بیرسٹر دانیال چوہدری

اربوں روپے کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بنائے گئے تو اسپتال کیوں نہیں بن سکے، بیرسٹر دانیال چوہدری

پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سی ڈی اے کا سارا دن یہ کام ہوتا ہے کہ کیسے لوگوں کو تنگ کیا جائے جبکہ عوام کی زندگی سے متعلق چیزیں ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی ڈی اے کو اپنی ترجیحات فوری طور پر طے کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ماڈل سٹی بناؤں گا مگر صرف سڑکوں سے ماڈل سٹی نہیں بن سکتا۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر اربوں کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بن سکتے ہیں تو اسپتال کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ہم نے کہا تھا کہ پمز جیسے نئے اسپتال بنائے جائیں کیونکہ پمز اس وقت اپنی مکمل صلاحیت پر کام کر رہا ہے جہاں اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔

پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ جب اداروں کی اپنی صلاحیت نہیں ہے تو وہ لوگوں کو کیا سہولت فراہم کریں گے، اسکولوں میں بچوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے اور وہاں بچوں کا برا حال ہے لہذا سی ڈی اے کو ان سنگین معاملات کو دیکھنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمر رسیدہ افراد کو اہم اداروں کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ جہاں عملی کام اور دوڑ دھوپ کی ضرورت ہو وہاں ایسے لوگوں کو لایا جانا چاہیے جن میں کام کرنے کی صلاحیت اور جوش موجود ہو۔