نواز شریف پر لندن میں علاج کرانے کا دبائو بڑھ گیا

0

امت رپورٹ
مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ان کی فیملی کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی دل کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب ان کا علاج بیرون ملک ممکن ہے۔ تاہم نواز شریف نے علاج کے لئے بیرون ملک جانے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں طبیعت بگڑنے پر نواز شریف کو پمز اسپتال کے کارڈک سینٹر میں داخل کرایا جا چکا ہے، جہاں ان کے نجی وارڈ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ نواز شریف کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق سابق وزیر اعظم کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول بڑھا ہوا ہے۔ جبکہ ان کے دائیں پائوں کی ایڑھی میں سوجن بھی ہے۔
ادھر نواز شریف کی فیملی کے ارکان، ذاتی اسٹاف اور دیگر افراد سارا دن نواز شریف سے ملاقات کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم پیر کی رات اس رپورٹ کے فائل کئے جانے تک کسی فرد کو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف سے ملاقات کے لئے جانے والوں میں ان کے ذاتی اسٹاف کے ارکان حاجی شکیل، عابد عبداللہ اور انور بلتی بھی شامل تھے۔ حاجی شکیل ایک طویل عرصے سے نواز شریف کے پرائیویٹ سیکریٹری ہیں اور ان کے سارے ذاتی کام کرتے ہیں۔ اسی طرح عابد عبداللہ سابق وزیر اعظم کے پرسنل اسسٹنٹ چلے آ رہے ہیں۔ نواز شریف کو وقت پر دوائی اور کھانا دینے سمیت دیگر معاملات کی نگرانی ان کے ذمے ہے۔ جبکہ انور بلتی کا شمار اگرچہ نواز شریف کے ذاتی فوٹو گرافر میں ہوتا ہے، لیکن انہیں شریف فیملی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتی ہے اور انور بلتی نے ان کے گھر میں ہی پرورش پائی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن بھی نواز شریف سے ملاقات کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے، لیکن کامیاب نہیں ہو سکے اور بالآخر انہیں نامراد لوٹنا پڑا۔ بعض اطلاعات کے مطابق شہباز شریف بھی نواز شریف سے ملنے گئے تھے۔ تاہم فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
نون لیگی ذرائع کے بقول چونکہ میاں صاحب سے فوری طور پر کسی فیملی رکن یا پارٹی رہنما کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، اس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے حوالے سے متضاد خبریں میڈیا میں چلتی رہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل میں دل کا دورہ پڑا۔ تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک کسی کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں ملتی، اس طرح کی خبروں کی تصدیق یا تردید مشکل ہے۔ حتیٰ کہ شریف فیملی بھی میاں صاحب کی صحت کے حوالے سے اسی انفارمیشن پر انحصار کر رہی ہے، جو پنجاب حکومت کے ذریعے اسے پہنچائی جا رہی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے شریف فیملی کو اب تک صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے پمز اسپتال میں جو ٹیسٹ کئے گئے وہ درست نہیں آئے ہیں۔ اور ساتھ ہی فیملی کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ میاں صاحب کی دل کی بیماری کی ہسٹری پمز اسپتال کارڈک سینٹر کے ڈاکٹروں کو معلوم نہیں۔ یہ ہسٹری ہارلے کلینک لندن کے ڈاکٹروں کو ہی معلوم ہو گی، جہاں نواز شریف نے اپنا آپریشن کرایا تھا۔ لہٰذا رسک لینے سے بہتر ہے کہ سابق وزیر اعظم کا مزید علاج لندن کے اسی کلینک میں کرایا جائے۔ پارٹی ذرائع کے بقول دراصل یہ پیغام نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی کوششوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح شریف فیملی گھبرا کر نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے بھیج دے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کے بعد پارٹی رہنمائوں کے ساتھ جیل میں ہونے والی ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ انہیں سہالہ ریسٹ ہائوس یا اسپتال منتقل کرنے کی کوششیں اس لئے کی جا رہی ہیں کہ جب تک وہ جیل میں رہیں گے، نئی بننے والی حکومت پر پریشر بڑھتا رہے گا۔ اسی لئے انہیں وقتاً فوقتاً جیل سے اسپتال منتقل ہونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ الیکشن میں مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے باہر ہو جانے سے بعض لوگوں کے مقاصد پورے ہو چکے ہیں۔ لہٰذا انہیں نہ صرف جیل سے اسپتال منتقل کرنے بلکہ بیرون ملک بھیجنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ لیکن انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کسی صورت ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میاں صاحب کا دو ٹوک کہنا تھا کہ اگر انہیں واپس ہی جانا ہوتا تو پاکستان آنے کا فیصلہ ہی نہ کرتے۔
دوسری جانب نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق ڈیل کے بارے میں پارٹی کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ خبریں ایک منصوبہ بندی کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ اس نوعیت کی نیوز منطقی طور پر بھی درست نہیں اور حقائق بھی اس کے برعکس ہیں۔ کیونکہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے پاس اب بچا ہی کیا ہے، جو وہ ڈیل کرے گی۔ عہدیدار کے بقول میاں صاحب ان ساری باتوں سے آگاہ ہیں اور انہوں نے پارٹی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنا علاج پاکستان میں کرائیں گے، چاہے کتنی بھی طبیعت بگڑ جائے۔
ادھر سابق وزیر اعظم کے ایک قریبی عزیز نے تصدیق کی کہ نواز شریف پمز اسپتال جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر وہ مزید چند گھنٹے بھی جیل میں رہے تو یہ بڑا رسک ہو گا۔ ان کوششوں کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب اچانک نواز شریف کے کمرے کی لائٹ چلی گئی۔ لیکن پسینے میں شرابور ہونے کے باوجود بھی نواز شریف جیل جانے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ قریبی عزیز کے مطابق تھک ہار کر ڈاکٹروں کی درخواست پر جیل حکام نے دوسرے وارڈز میں مقید ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو بلایا، تاکہ وہ نواز شریف کو اسپتال منتقل ہونے پر قائل کر سکیں۔ قریبی عزیز کے بقول ڈاکٹروں نے مریم نواز کو نواز شریف کی صحت کی سنگینی سے متعلق پہلے ہی بریف کر دیا تھا۔ لہٰذا مریم اور کپیٹن (ر) صفدر کی منت سماجت کے بعد نواز شریف پمز اسپتال جانے پر راضی ہوئے۔ ٭
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More