ایک سوئی کےباعث قبر کا عذاب

0

ایک بزرگ نے بڑا عبرت ناک واقعہ سنایا کہ ان کے زمانے میں ایک بہت بڑے عالم تھے، جب ان کا انتقال ہو گیا تو اس عالم کے انتقال کے بعد ان کے کسی شاگرد نے ان کو خواب میں دیکھا کہ برہنہ جسم کے ساتھ ایک چٹیل میدان میں دوپہر کی سخت گرمی سے بے چین اور پریشان ہو کر ادھر سے ادھر دوڑ رہے ہیں، بے قرار اور بے چین ہیں۔
اس شاگرد نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ نے تو ساری زندگی اطاعت و عبادات اور خدمت دین میں گزاری، مخلوق کی اصلاح اور تربیت کرتے رہے، کیا ان میں سے کوئی عبادت قبول نہیں ہوئی؟ انہوں نے جواب میں فرمایا: ایسا نہیں ہے، بلکہ رب تعالیٰ نے جن اعمال صالحہ کی توفیق دی تھی، وہ سب قبول ہو گئے ہیں، لیکن جس عذاب میں مبتلا ہوں، وہ ایک سوئی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
شاگرد نے پوچھا وہ کیسے؟ انہوں نے جواب دیا کہ انتقال سے چند روز پہلے میں اپنا کپڑا سینے کے لیے اپنے ایک پڑوسی سے سوئی مانگ لایا تھا اور پھر کپڑا سی کر سوئی الماری میں رکھ دی اور واپس کرنا یاد نہ رہا اور اس کے بعد میرا انتقال ہو گیا، اب یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، اسی ایک سوئی کی وجہ سے ہورہا ہے، تم صبح بیدار ہو کر میرے گھر جانا اور گھر والوں سے کہنا کہ الماری میں فلاں جگہ پر وہ سوئی رکھی ہوئی ہے، وہ تم لے کر میرے فلاں پڑوسی کو پہنچا دینا، تاکہ مجھ سے یہ عذاب دور ہو جائے۔
چنانچہ وہ شاگرد صبح اٹھ کر سیدھے استاد کے گھر پہنچے اور کہا فلاں الماری میں فلاں جگہ پر سوئی رکھی ہوئی ہے، گھر والوں نے دیکھا تو بتایا کہ ہاں رکھی ہوئی ہے، اس شاگرد نے پوچھا کہ تمہیں یہ معلوم ہے کہ کس کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں مرحوم فلاں پڑوسی سے لائے تھے اور ہم نے سوچا کہ ذرا تعزیت کیلئے آنے جانے والوں کا سلسلہ ختم ہو تو یہ سوئی ان کو واپس کر دیں گے۔
شاگرد نے بتایا کہ میں نے ان کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ اس سوئی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہیں، اس لیے وہ سوئی تم مجھے دے دو، تاکہ میں جلدی سے ان کو واپس کر دوں اور ان کی طرف سے تاخیر کی بھی معافی مانگ لوں، چنانچہ اس شاگرد نے وہ سوئی لے کر پڑوسی کو واپس کر دی اور ان کو بتایا کہ حضرت کو اس سوئی کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، وہ پڑوسی بھی یہ سن کر رونے لگا کہ کتنی معمولی سی چیز کی وجہ سے ان کو عذاب ہو رہا ہے، میں نے خدا کے لیے ان کو معاف کر دیا، خدایا آپ بھی اپنی رحمت سے ان کو معاف فرما دیں اور ان کا عذاب دور فرما دیں۔
وہ شاگرد کہتے ہیں کہ جب رات کو سویا تو پھر دوبارہ میں نے ان کو خواب میں دیکھا، لیکن اب وہ منظر کچھ اور تھا، اب حضرت ایک خوب صورت اور سر سبز و شاداب باغ کے بیچوں بیچ ایک مسہری پر آرام فرما رہے ہیں، چاروں طرف خدام موجود ہیں، پھلوں اور پھولوں کے درخت لگے ہوئے ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، میں نے قریب جا کر ان کو سلام کیا اور پوچھا کہ اب کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ جس وقت تم نے پڑوسی کو سوئی پہنچائی اور اس نے یہ کہا کہ میں خدا کے لیے معاف کرتا ہوں، بس اسی لمحے میرا عذاب ٹل گیا اور جو نعمتیں تم دیکھ رہے ہو، یہ رب تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے دین کی خدمت کی جو توفیق عطا فرمائی تھی، اس کا صلہ ہے۔ (بحوالہ حکایات کا انسائیکلو پیڈیا)
حاصل… اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم کبھی اپنے ذمہ کسی کی کوئی چیز یا کسی کا کوئی حق نہ رکھیں، بلکہ جس کی جو چیز یا جو حق ہمارے ذمہ ہے، اسے واپس کر دیں، اندازہ کیجئے کہ ایک سوئی کی وجہ سے اس قدر عذاب ہے اور آج جو بے شمار حقوق العباد کے بارے میں لاپروائی برتی جا رہی ہے، اس کا کس قدر وبال ہو گا، حق تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ٭
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More