افغان- بنگالیوں کی شہرت کا اعلان مقتدر حلقوں کی مشاورت سے کیا گیا

0

وجیہ احمد صدیقی
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغانیوں اور بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان جہاں افغان اور بنگالی شہریوں کے لئے خوشی کا باعث بنا ہے، وہیں سندھ میں موجود سیاسی جماعتوںکی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق افغان باشندوں اور بنگالی شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان مقتدر حلقوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا محفوظ طریقہ یہی ہے کہ ان غیر ملکیوں کو جو طویل عرصے سے پاکستان میں رہ رہے ہیں، پاکستان کی شہریت دی جائے، تاکہ ان کا بائیو میٹرک ریکارڈ محفوظ ہو سکے، جبکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو سکے گا۔ ذرائع کے بقول یہی غیر ملکی پاکستانی پاسپورٹ پر غیرقانونی طریقے سے دوسرے ممالک میں جاتے ہیں، ملازمتیں حاصل کرتے ہیں اور زر مبادلہ دوسرے ملکوں کو منتقل کرتے ہیں۔ یہ کام کرپشن کے ذریعے ہو رہا ہے اور اس سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری جانب عسکری تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے، تاکہ اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جا سکے اور یہ کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کے مثبت اور منفی پہلوئوں پر غور کیا جائے۔
اس حوالے سے عسکری تجزیہ نگار جنرل (ر) امجد شعیب نے ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان اور بنگالی شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کے اعلان کے حوالے سے دو قسم کی آرا سامنے آئی ہیں۔ اتنے عرصے سے یہ لوگ پاکستان میں موجود ہیں اور بعض نے ناجائز طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی حاصل کر رکھا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کا ریکارڈ قانونی طریقے سے محفوظ ہونا چاہیے۔ یہ لوگ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرکے بیرون ملک بطور پاکستانی ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کو یہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے، تاکہ اراکین پارلیمنٹ اس معاملے کے مثبت اور منفی پہلوئوں پر غور کرلیں۔ ایک سوال پر جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ’’میرا یہ خیال ہے کہ وزیر اعظم نے بغیر ہوم ورک کے یہ اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان متنازعہ ہوسکتا ہے۔ بنگالیوں کا معاملہ تو شاید کسی حد تک سلجھ جائے، لیکن افغانیوں کا معاملہ کس طرح کنٹرول ہوگا۔ اس وقت ملک میں 30 لاکھ افغانی موجود ہیں اور باقی 20 لاکھ وہ ہیں، جن کا کوئی قانونی ریکارڈ نہیں ہے۔ اگر یہ اعلان فیصلے کی شکل اختیار کرکے سامنے آیا تو افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پاکستانی شہریت کے حصول کی کوشش کرے گی۔ وزیر اعظم کو اس معاملے میں ہوم ورک کرکے اور سوچ سمجھ کے اعلان کرنا چاہیے تھا۔ اس اعلان پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت رد عمل آیا ہے۔ سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے وزیر اعظم کی جانب سے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بنگالیوں کا دکھ ہوتا تو ان کے لیے بنی گالہ کے دروازے کھول دیتے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں پاکستانی بنگالیوں کی شناختی کارڈ کی مشکلات کو دور کرنے پر اعتراض نہیں ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو شہریت دینے پر شدید اعتراض ہے۔ ان کی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ اگر وہ کام کر رہے ہیں تو اس کی اجازت دینے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستانی شہریت دینے سے مسائل پیدا ہوں گے‘‘۔
بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ وزیر اعظم از خود یا مقتدر حلقوں کے ساتھ بلا کسی مشاورت کے یہ اعلان نہیں کر سکتے۔ وزیر اعظم نے اپنی حکومت بنانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان اور بی این پی مینگل سے ان کی شرائط مان کر انہیں حکومت میں شامل کیا ہے اور اس کے لیے انہیں مقتدر حلقوں کی آشیر باد حاصل تھی۔ یہ دونوں جماعتیں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی خصوصی طور پر مخالف ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی نے انہیں حکومت میں شامل کیا ہے اور ان کے مطالبات کو مان کر کیا ہے۔ ایک سوال پر بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے کہا کہ ’’پاکستان میں ایک طویل عرصے سے بنگالی اور افغان باشندے ناجائز طور پر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب ان کے لیے ایک جائز راستہ بنایا جارہا ہے ۔کراچی میں سب سے زیادہ دہشت گردی ہے اور اسٹریٹ کرائم بھی زیادہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ برسوں سے مقیم غیر ملکی باشندوں کے ٹھکانے دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہیں ہیں۔ یہ غیر ملکی اس لیے ان دہشت گردوں کی اطلاع حکومت کو نہیں دیتے، کیونکہ انہیں اپنے بھی پکڑے جانے کا خطرہ ہوتا ہے‘‘۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’’کراچی میں موجود ان غیر ملکی باشندوں کو اگر شہریت دی جائے گی تو وہاںکی دوسری سیاسی جماعتیں مزاحمت کریں گی۔ کیونکہ انہیں اپنا ووٹ بینک کم ہوتا نظر آئے گا۔ اس مرحلے پر سیاسی تصادم کا زیادہ امکان ہے۔ خود خیبر پختون میں بھی تحریک انصاف کو سیاسی طور پر اس اعلان کے خلاف مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان لوگوں کے خلاف عوامی رد عمل جو پہلے سے موجود ہے، اس میں شدت آسکتی ہے۔ لیکن یہ ایک اچھا فیصلہ اس لیے ہے کہ اس طرح پاکستان میں موجود لوگوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا جمع ہوجائے گا۔ اب حکومت کو بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کو بھی شہریت دے کر پاکستان لانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس معاملے کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہیے، کیونکہ 18 ویں ترمیم نے وفاقی حکومت کے بہت سے اختیارات کو کم کر دیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تصادم کی کیفیت پیدا ہوجائے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس اعلان کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی آتی ہے یا اضافہ ہوتا ہے‘‘۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More