اندونیشیا میں زلزلے- سونامی سے 400 جاں بحق

0

جکارتہ (امت نیوز/ مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا کے جزیرہ سولاویسی کے ساحلی شہر پالو میں شدید زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں 400سے زائد افراد جاں بحق، 550زخمی ہوگئے، جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔ زلزلے کی وجہ سے سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور مرنے والوں کی لاشیں سڑکوں اور گلیوں سمیت مختلف مقامات پر بکھری پڑی ہیں۔ متعدد لوگوں نے زلزلے کے وقت بلند عمارتوں سے چھلانگیں لگا دیں۔ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باعث حکام کو امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سمندر کی بلند لہروں نے ایسے وقت میں لوگوں کو لپیٹ میں لیا، جب ساحل پر سیکڑوں افراد ایک میلے میں شریک تھے ۔اسپتالوں کے متاثر ہونے کے باعث زخمیوں کو کھلے آسمان تلے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ زلزلے کے باعث سولاویسی کے ساحلی شہر پالو کا واحد رن وے بھی بری طرح متاثر ہوا، تاہم جلد ہی رن وے طیاروں کی لینڈنگ کے قابل بنا دیا گیا۔ انڈونیشیا کے صدر نے فوج کو متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے انڈونیشیا کو امداد کی فراہمی شروع کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا میں دنیا کے بڑے جزائر میں شامل سولاویسی میں ہفتہ کی سہ پہر 3بجے شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ساحلی شہر پالو اور ڈونگلا شدید متاثر ہوئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت ریکٹر 7.5ریکارڈ کی گئی۔امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز صرف 10 کلومیٹر کی گہرائی پر تھا۔ ہفتہ کو پالو اور ڈونگلا میں زلزلے کے جھٹکے 3بار محسوس کئے گئے۔ ان میں سے 2 کی شدت 4.9ریکٹر اسکیل تھی۔ اس کے بعد 5.8 شدت کا زلزلہ آیا۔ ان سب کے بعد 7.5شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ انڈونیشیا کی جانب سے زلزلہ آنے کے فوری بعد سونامی کا الرٹ جاری کیا گیا جو فوری بعد ہی 3میٹر بلند لہریں پالو شہر سے ٹکرانے کے باعث واپس لے لیا گیا۔ انڈونیشیا کے حکام نے ساڑھے 3لاکھ نفوس پر مشتمل پالو شہر میں400 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ زلزلے کی وجہ سے سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور مرنے والوں کی لاشیں سڑکوں و گلیوں سمیت مختلف مقامات پر بکھری پڑی ہیں۔ درجنوں لاشیں پولیس اور فوج کے اسپتالوں کے باہر رکھی گئی ہیں، تاکہ لوگ پیاروں کو شناخت کر سکیں۔ پالو میں بجلی اور مواصلاتی نظام منقطع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات آرہی ہیں اور اس کے نتیجے میں آئندہ ایام میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔ سمندر کی بلند لہروں نے ایسے وقت میں لوگوں کو لپیٹ میں لیا،جب ساحل پر سیکڑوں افراد ایک میلے میں شریک تھے۔ زلزلے و سونامی کے بعد بیسیوں لوگ اب تک لاپتہ ہیں۔ اسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث زخمیوں کو کھلے آسمان تلے طبی امداد دی جا رہی ہے۔امدادی سرگرمیوں کے دوران ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ محض چند افراد ہی 20فٹ سے زائد کے درختوں پر چڑھ کر جان بچانے میں کامیاب رہے۔ زلزلے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی نظر ہیں۔ بلند لہروں کے ساحل اور قریبی علاقوں میں ٹکرانے کے وقت لوگ افراتفری میں بھاگ رہے ہیں۔ زلزلے کے وقت متعدد افراد نے بلند عمارتوں سے چھلانگ لگا دی، تاہم وہ جان بچانے میں ناکام رہے۔ پالو ایئر پورٹ پر ایئر ٹریفک کنٹرول کے ٹاور میں تعینات ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر 21سالہ گناون اگونگ نے زلزلے کے وقت ٹاور گرنے کے خدشے کے باوجود اس وقت تک کام میں مصروف رہا، جب تک ایک طیارے نے محفوظ طریقے سے اڑان نہ بھر لی۔ شہر کے اسپتال کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے زخمیوں کیلئے عارضی مراکز بنا دیئے گئے ہیں۔ پالو شہر کا ہوائی اڈہ بھی زلزلے سے متاثر ہوا، تاہم حکام اڈے پر امدادی سامان لانے والے کئی فوجی ہوائی جہازوں کو اتارنے میں کامیاب رہے۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو کا کہنا ہے کہ انہوں نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں فوج بھیجنے کا حکم دیدیا ہے اور انہوں نے تمام تر صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ متاثرہ علاقوں میں میرے تمام بھائی اور بہنیں محفوظ و مامون رہیں۔ انڈونیشیا کی میٹرو لوجیکل اینڈ جیو فزکس کے سربراہ کے مطابق صورتحال کافی ابتر ہے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ ایک بحری جہاز بھی سونامی کے نتیجے میں بہہ کر ساحل پر آگیا۔ عمارتوں کی حالت مخدوش ہونے کی وجہ سے لوگوں کو گھروں میں داخل نہ ہوں اور رات کو باہر سونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انڈونیشیا کے امدادی ادارے کے سربراہ محمد سائر کے مطابق پالو میں بہت سی لاشیں پڑی ہیں۔ ہلاکتوں کی صحیح تعداد امدادی مشن مکمل ہونے کے بعد ہی بتائی جاسکتی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ہلاکتیں زلزلے سے ہوئیں، یہ بعد میں آنے والا سونامی وجہ بنا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے ایک ترجمان کے مطابق سونامی کی لہریں ٹکرانے کے وقت پالو کے ساحل پر ایک میلہ جاری تھا، جس میں شریک سیکڑوں افراد کی قسمت کے بارے میں ابھی تک کچھ پتا نہیں ہے۔ پالو ہی کی طرح سولاویسی جزیرے پر 3لاکھ کی آبادی کے چھوٹے شہر ڈونگلا میں دریا کا بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی آبادی میں داخل ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق انڈونیشیا میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ انڈونیشیا میں انٹرنیشنل ریڈ کراس کے سربراہ جین گیلفنڈ کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنان کی ٹیمیں پالو پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ سولاویسی جزیرے کا ایئر پورٹ بھی متاثرہ مقام سے کم از کم 10 سے12 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ پالو شہر کے اُن داتا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کومانگ ادی سجندرا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ زلزلے کے بعد سے ان کے اسپتال میں بجلی غائب ہے، سڑکوں پر دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ہمیں ادویات اور عملے کی اشد ضرورت ہے۔گزشتہ ماہ 5اگست کو انڈونیشیا میں سیاحوں میں مقبول ترین جزیرے لومبوک میں بھی زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں460 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈونیشیا2004 میں بھی شدید زلزلے اور تباہ کن سونامی کا نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ20ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سونامی کے باعث دنیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے۔ سونامی میں مجموعی طور پر 2لاکھ 26 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ انڈونیشیا میں زلزلے کے زیادہ خدشات رہتے ہیں، جس کی وجہ انڈونیشیا کا رنگ آف فائر یعنی مسلسل زلزلے و آتش فشانی دھماکوں کے علاقے میں آباد ہونا ہے۔ اس قطار میں تقریباً پورا پیسفک سمندر شامل ہے۔ دنیا کے نصف سے زیادہ فعال آتش فشاں اسی رنگ آف فائر کا حصہ ہیں۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More