ملک ریاض سپریم کورٹ کی سخت گرفت میں آگئے

0

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ملک ریاض سپریم کورٹ کی سخت گرفت میں آگئے۔بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی ہتھیانےسے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک ہزار ارب روپے جرمانے کا انتباہ دے دیا اور اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سندھ میں سب ملے ہوئے ہیں۔بحریہ ٹاؤن کو چاندی کے بدلے سونا زمین دی گئی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ کے سامنے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض، سینئر وکیل اعتزاز احسن، وکیل علی ظفر اور دیگر پیش ہوئے۔بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی 18 ہزار کینال زمین ہے،5 ارب دینے کو تیارہیں ،مزید اقدامات بھی کرے گا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بحریہ ٹاؤن کے جہاز میں پھر رہے ہیں اور اسے ٹیکسی بنایا ہوا ہے، علی ظفر نے کہا کہ آپ ہرجانہ طے کردی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ ٹھیک ہے ایک ہزار ارب دے دیں ۔ہم عملدرآمد بنچ ہیں، اس سے ایک پیسہ کم نہیں ہوگا، اگر نہیں دے سکتے تو میرٹ پر بحث کریں۔جس پر ملک ریاض دہائیاں دینے لگے کہ بحریہ ٹاؤن میں کل سرمایہ کاری 437 ارب روپے کی ہے، ہزار ارب کیسے ادا کروں۔بحریہ ٹاؤن سربراہ نے بتایا کہ سندھ میں زمین کے تبادلے کا قانون 1982 سے موجود ہے اور 70 کے قریب زمینوں کے تبادلے ہوئے ہیں۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ 4 دیہات کا تبادلہ کیا اور 4 ارب سرکاری خزانے میں جمع کرائے۔حکومت کو پانی کے بلوں کی مد میں بھی 36 کروڑ روپے اداکئے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 1500 ارب روپے سے ڈیم بنتا ہے، آپ بنا دیں۔ملک ریاض نے کہا کہ ایک روپے کی چیز کے 10 روپے کیوں ادا کروں؟ عدالت سے ہاتھ جوڑ کر استدعا کرتا ہوں رحم کرے۔اس دوران عدالت میں موجود زاہد بخاری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبے گا تو پاکستان ڈوب جائے گا،جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ سوچ سمجھ کر بات کریں،، زاہد بخاری بولے میں معاشی طور پر ڈوبنے کی بات کر رہا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کی زمین دھوکے بازی سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی۔ عدالت میں موجود نجی سرمایہ کار نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے سرمایہ کار متاثر ہو رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقابلے میں محفوظ ہے اور لوگ یہاں سکون سے رہ رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایکشن نہیں لیں، چاہےجتنی لوٹ مار کی ہے، ان کو معاف کردیں۔ملیر اتھارٹی سے ایک جگہ زمین لی گئی، بدلے میں ٹکڑے ٹکڑے زمین دی اور یہ زمین 300 میل دوربلوچستان سرحد پر ہے۔موقع کی زمین ہتھیا لی گئی، چاندی دے کر سونا لے لیا گیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا غیر قانونی کام پر اس لیے چھوٹ دے دیں کہ ہوا تو غلط ہے لیکن کام بہت اعلیٰ ہے۔سینئر وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس کیس میں اگر کوئی شراکت دار ہے تو وہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہے۔ جسٹس مقبول باقر کو نظرثانی بنچ میں ضرور ہونا چاہیے تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم ڈی اے کو کتنا نقصان ہوا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ ایم ڈی اے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اراضی واپس دینے کی سوچ رہے ہیں جبکہ ملیر کہتا ہے کہ ہمیں اراضی چاہیے ہی نہیں۔ سندھ حکومت بھی یہی کہتی ہے، یہ سب ملے ہوئے ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون ہے ایم ڈی اے کا منیجنگ ڈائریکٹر؟ کیوں نہ انہیں جیل بھیج دیں۔عدالت نے بعدازاں کیس کی سماعت 11 اکتوبرتک کے لیے ملتوی کردی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More