گیس پر اداروں کی لڑائی میں شہری پس گئے

0

کراچی/ حیدر آباد/ اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر/ نمائندگان/ مانیٹرنگ ڈیسک) گیس پراداروں کی لڑائی میں شہری پس گئے۔سی این جی بحران پرکراچی چیمبراورپمپ مالکان نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے سامنےدھرنے کی دھمکی دیدی۔سندھ میں630 پمپ بند ہونے سےہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے جبکہ برآمدات کوبھی دھچکا لگے گا۔ٹرانسپورٹ نہ ملنے پرعوام کوپریشانی کا سامنا ہے۔پنجاب میں گھریلو صارفین کیلئے 7 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی۔وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان نے بحران کا ذمہ دار سوئی سدرن اورسوئی ناردرن گیس کمپنی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی اورطلب و رسد کاتخمینہ چھپایا گیا۔وزیراعظم عمران خان کے حکم پر دونوں گیس کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرزکےخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔سوئی سدرن نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ( پی پی ایل) کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی مقدار میں واضح کمی آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں گیس بحران نے شدت اختیار کر لی ہے، ٹرانسپورٹ نہ ملنے سے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بدھ کو پریس کانفرنس میں صدر کراچی چیمبرآف کامرس جنید ماکڈا نے کہا کہ سی این جی انڈسٹری بند ہو گئی ہے،حکومت سے اپیل ہے کہ گیس فراہمی کو یقینی بنائے،سوئی سدرن( ایس ایس جی سی ) 24 گھنٹے میں گیس بحال کرے ورنہ چیئرمین، ایم ڈی مستعفی ہوں، مطالبات کی عدم منظوری پر ہم ایس ایس جی سی کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن شبیر سلیمان نے کہا کہ ہمارے ایک سی این جی اسٹیشن پر 10سے زائد افراد کام کرتے ہیں جوبے روزگار بیٹھے ہیں اورحکومت کو یومیہ ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے ریونیو بھی رک گیا ہے۔سی این جی اسٹیشن بند ہونے سے ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا سوئی سدرن نے گیس فراہمی بہتر ہونے پر سپلائی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری طرف حیدر آباد میں سندھ سی این جی ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر ذوالفقار یوسفانی نے پریس کانفرنس میں کہا سندھ میں 630 پمپس ہیں جن پر 40 ہزار لوگ کام کرتے ہیں،سب سے زیادہ گیس فراہمی کے با وجود سندھ سے زیادتی ہو رہی ہے۔ذوالفقار یوسفانی نے کہا کہ ہم ایس ایس جی سی ہیڈ آفس پر دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گےاور سکھر سے کراچی تک قومی شاہراہ مکمل طور پر بند کر دیں گے۔دریں اثنا خیر پور، پنگریو، ٹنڈو محمد خان سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں سی این جی اسٹیشنوں کی بندش کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہو گئی۔ سندھ بھر میں گاڑیاں کم چلنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔گیس کم آنے اور لوڈ شیڈنگ سے گھریلو صارفین کھانے کی تیاری میں پرانے چولہے استعمال کرنے اورلکڑیاں جلانے پرمجبور ہیں جبکہ خیرپور میں بااثر شخصیات کے سی این جی اسٹیشنز پر گیس بدستور بیچی جا رہی ہے۔ کراچی میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہوگیا، جس کے باعث بسوں سے دفاتر اور تعلیمی اداروں کو جانے والوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بدھ کو کراچی میں سڑکوں سے بسیں غائب ہو نے سے شہری رل گئے، جو ایک دو بسیں چلیں ان کی چھتوں پر بھی جگہ کم پڑگئی۔واضح رہےسندھ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ہفتے میں 3روز(پیر ،بدھ اور جمعہ ) گیس کی بندش کی جاتی تھی ،تاہم گزشتہ چار روز سے غیر معینہ مدت کے لئے گیس کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔ چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس سراج قاسم تیلی نے کہا ہےہم وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے وعدے کی پاسداری کریں۔سوئی سدرن کو گیس بندش سے روکیں۔ تاجروں اور صنعت کاروں نے صنعتوں میں اہم ترین کیپٹو پاور کی گیس سپلائی منقطع کیے جانے پر شدید تنقید کی ہے اور اسے ملکی پیداوار پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے بر آمدات کو دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے خلاف انکوائری اور72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان نے وزیرِاعظم کو بتایا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ دونوں اداروں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالے سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل خان کی سربراہی میں 4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔سوئی سدرن کے ترجمان نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے وضاحت میں کہا ہے کہ ایس ایس جی سی کو ملنے والی گیس کی مقدار میں واضح کمی آئی ہے، گمبٹ گیس فیلڈ اور کنڑ پساکھی سے گیس کی فراہمی نصف ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق حکومت کی ہدایت پر گھریلو صارفین کو پہلے گیس دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ پی پی ایل کے ذرائع نے انکشاف کیا تھاکہ گمبٹ گیس فیلڈ میں کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ گیس بحران کی اصل وجہ آر ایل این جی ٹرمینل میں خرابی ہے اور ایس ایس جی سی گیس پنجاب کو فراہم کر رہی ہے۔وفاقی حکومت نے پنجاب میں قدرتی گیس کی 40فیصد کمی کو پورا کرنے کے لیےگھریلو صارفین کے لیے 7 گھنٹے ( رات 10 تا صبح 5 بجے) تک گیس کی سپلائی بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے بیشتر شہروں میں گیس لوڈ مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ گیس پریشر میں کمی کے باعث رات کے اوقات میں گھریلو صارفین کو فراہمی بند کی جا رہی ہے۔سوئی ناردرن گیس کمپنی نے سی این جی اسٹیشنوں اورصنعتی یونٹوں کو گیس کی سپلائی رات 11بجے تک معطل رہنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More