سیاحوں کی ’’مری بائیکاٹ مہم‘‘ زور پکڑ گئی

0

محمد زبیر خان
مری میں اس سال سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں سال دو مہینے جون اور جولائی میں کاروبار انتہائی متاثر ہوا تھا، جبکہ اب بھی بائیکاٹ مہم کے سبب حالیہ سیزن میں کاروبار میں چالیس فیصد کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خاتون سیاح پر تشدد کے حالیہ واقعے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد مری میں رات رکنے کے بجائے گلیات اور ایبٹ آباد کی طرف جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے مری جانے والے افراد گھومنے پھرنے کے بعد اسی روز ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ انجمن تاجران مری نے سیاحوں پر تشدد کا ذمہ دار چند اوباش نوجوانوں اور ایجنٹ مافیا کو قرار دیا ہے۔ جبکہ پندرہ جنوری سے ضابطہ اخلاق لاگو کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مری کے مقامی ذرائع سے ’’امت‘‘ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سردیوں اور برف باری کے اس سیزن میں توقع تھی کہ مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد آئے گی، اور گزشتہ سال جون، جولائی میں ہونے والے بائیکاٹ سے مری کے اندر سیاحت سے وابستہ جس کاروبار میں کمی آئی ہے، اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ مگر کوئی ایک ہفتہ قبل ایک خاتون سیاح پر تشدد کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر مری کے بائیکاٹ کی مہم چل پڑی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد اور گرد و نواح سے برفباری دیکھنے کے لئے آنے والے سیاح دن کے وقت ہی واپس جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جبکہ وی افراد جو دور دراز سے آ رہے ہیں، وہ رات گزارنے کیلئے گلیات اور ایبٹ آباد کا رخ کر رہے ہیں۔ سیاحوں کی بڑی تعداد مری میں رات نہیں گزارتی۔ جبکہ برف باری کا نظارہ کرنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد اب سوات اور کالام وغیرہ کا رخ کر رہی ہے۔ ’’امت‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ جون، جولائی کا سیزن تو متاثر ہوا ہی تھا، مگر اب سردیوں کے اس سیزن میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کاروبار میں چالیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
مری اور گلیات کے عوامی اور سماجی کارکن سردار رب نواز نے ’’امت‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا زیادہ وقت ڈنہ چوک پر گزرتا ہے، جو اسلام آباد، راولپنڈی کو گلیات اور مری سے ملاتا ہے۔ وہ گزشتہ چار، پانچ دن سے نوٹ کر رہے ہیں کہ سیاحوں کی بڑی تعداد جو مری سے آرہی ہو یا راولپنڈی اسلام آباد سے، وہ گلیات اور ایبٹ آباد کا رخ کر رہی ہے۔ مری کی طرف جانے والی ٹریفک انتہائی کم ہے۔ جبکہ مری میں بھی وہ رش نظر نہیں آ رہا ہے، جو گزشتہ سال اس سیزن میں تھا۔ سردار رب نواز کے مطابق وہ واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں کہ سیاح مری کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت اگر انتہائی محتاط اندازہ لگاؤں تو چالیس فیصد سیاح گزشتہ سال کے مقابلے میں کم آئے ہیں‘‘۔ مری میں ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ شاہد عباسی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ رواں سیزن میں سیاحوں کی تعداد میں چالیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس سے کاروبار میں بھی چالیس فیصد کمی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع تھی کہ اس برفباری اور سردیوں کے سیزن میں کاغان ناران بند ہونے کی وجہ سے سیاح بڑی تعداد میں مری آئیں گے۔ سیاح مری آ تو رہے ہیں، مگر وہ مری میں ٹھہرنے کے بجائے گلیات اور ایبٹ آباد چلے جاتے ہیں اور وہاں پر رات گزارنا زیادہ پسند کر رہے ہیں۔ شاہد عباسی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام اور سیاحوں کی جانب سے مری بائیکاٹ مہم کی وجہ سے سیاح کم آئے ہیں اور کاروبار میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ چھانگلا گلی میں پیٹرول اور ڈیزل ڈیلر سردار سلیم کا کہنا ہے کہ مری میں حالات اچھے نہیں ہیں۔ مری میں وہ رش نہیں، جو اس سال اس موسم میں ہوتا ہے۔
مری سے ملحق گلیات کے کاروباری حلقوں نے مری بائیکاٹ کے حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کیا۔ بعض کے خیال میں مری بائیکاٹ مہم کی وجہ سے گلیات میں بھی کاروبار کم ہوا ہے۔ جبکہ زیادہ تر کا خیال ہے کہ مری بائیکاٹ کی وجہ سے گلیات میں کاروبار بہتر ہوا ہے۔ سردار ریحان زیب جو النور ہوٹل کے نام کے ساتھ ہرنو میں کاروبار کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ مری بائیکاٹ کے برے اثرات ہرنو جو مری سے آتے ہوئے گلیات کا آخری تفریحی مقام ہے، پر بھی پڑے ہیں اور سیاح ہرنو میں بھی رکنا پسند نہیں کر رہے۔ نتھیا گلی سے کامران ہوٹل کے مالک سردار سلیم کی رائے تھی کہ گلیات میں مری کے مقابلے میں انیس بیس کے فرق سے حالات بہتر ہیں۔ سیاح گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تو ہیں، مگر گلیات میں بہرحال مری سے حالات بہتر ہیں۔
’’امت‘‘ کے رابطہ قائم کرنے پر انجمن تاجران مری کے صدر راجہ طفیل اخلاق نے مری میں خاتون سیاح پر تشدد پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مری کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ سیاحوں اور خواتین سے بدتمیزی کا تصور بھی نہیںکر سکتے۔ گزشتہ سال اور اس بار بھی مذموم واقعات کے ذمہ دار چند گنے چنے اوباش اور ایجنٹ مافیا ہے۔ اگر انتظامیہ اور حکومت پہلے ہی ان ایجنٹ اور اوباشوں کو لگام دے دیتی تو حالیہ واقعہ پیش نہ آتا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حالیہ واقعہ میں ان ایجنٹوں اور اوباشوں کو لگام دی ہے، جس کے بعد امید ہے کہ آئندہ مری میں اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ جبکہ مری کے کاروباری اور مقامی افراد نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ مزید اس طرح کی بدمعاشی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اب مری میں ایک ضابطہ اخلاق بنایا جا رہا ہے، جسے پندرہ جنوری سے لاگو کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انتظامیہ، پولیس اور حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اوباشوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More