صوابی کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کیخلاف احتجاجی دھرنا

0

صوابی (نمائندہ امت) تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال لاہور میں ڈاکٹروں کی کمی کے خلاف بلدیاتی نمائندوں نے شہریوں کے ہمراہ ہسپتال میں احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین کے قائدین میں شامل ناظم مفتی نویداکبر، ڈسٹرکٹ ممبر زاہد خان، ڈسٹرکٹ ممبر مولانا شہاب الدین، تحصیل ممبر ذوالفقار، صدر تاجران طفیل خان، دیگرویلج ناظمین حق نواز خان بن یامین،سابق ایم پی اے سردارعلی خان، یوتھ کونسلر فواد خان کا کہناتھا کہ جب سے ہسپتال چالو ہوا یہاں پر ڈاکٹروں کا فقدان ہے۔ہسپتال کو 60کنال اراضی مفت میں دی گئی ہم سے وعدہ بھی کیا گیا تھا اس محلے کے30افرادکو ہسپتال میں ملازمت دی جائیگی وہ وعدہ بھی ایفانہ کیا جاسکا ہسپتال میں آج بھی دن کے وقت 10بجے سے 2بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جسکی وجہ سے بھی ہسپتال آنے والوں کو شدید پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے ایکسرے مشین ایک سال سے خراب پڑا ہے ، ہسپتال کے اندر لائٹس ناکارہ ہوچکی ہیں۔انہوں نے حکومت سے یہ بھی گلہ کیا کہ پولیوکے قطرے پلانے کیلئے تو پولیس کے ہمراہ ٹیموں کو گھرگھربھجوایا جاسکتا ہے حالانکہ پولیو مرض سے کسی کی موت بھی واقع نہیں ہوتی جبکہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی سے مریض موت کے منہ میں بھی چلاجاتا ہے جسکا حکومت کوکوئی فکر نہیں۔ یوتھ کونسلر فواد خان کا یہ بھی کہناتھا کہ باچاخان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور سے جب مریض ہسپتال کے ایمبولینس میں پشاورمنتقل کیا جاتا ہے تو ایمبولینس کی ایک ہزار روپے چارجز جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لاہور سے پشاورمنتقلی پر ایمبولینس چارجزمجھ سے 2500روپے وصول کئے گئے۔ مظاہرین نے بھی الزام لگایا ہے کہ ہسپتال ایم ایس اورڈی ایچ او کی گاڑیوں کیلئے تو تیل مہیا کی جاتی ہے مگر ہسپتال جنریٹر کیلئے نہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی نمائندہ تنظیم کے سربراہوں شاہ خالد خان،سابق ناظم شیرامان خان اوردیگر نے ایم پی اے عبدالکریم خان کی جانب سے نمائندے بن کر مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹروں کی فراہمی سمیت سارے مسائل اگلے ہفتہ میں حل کئے جائیں گے جس پر مظاہرین نے انہیں ہفتہ کے بجائے ایک ماہ کی مہلت دیدی اور ساتھ یہ رعایت بھی دیدی کہ مذکورہ جملہ مسائل میں اگلے ماہ کے دوران اگر پچاس فیصد مسائل بھی حل ہونگے تو ہمیں منظور ہوگا بصورت دیگر ہم ہسپتال ھٰذا میں تمام مسائل کے حل تک غیر معینہ مدت کیلئے احتجاجی دھرنا دینگے جبکہ یوتھ کونسلر فواد خان نے یہ بھی دھمکی دیدی کہ جب تک تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لاہورمیں دیگر ساری بیماریوں کا علاج معالجہ کی سہولتیں مہیا نہیں کی جاتی تب تک ہم لاہورکی گلی کوچوں میں پولیو قطرے پلوانے کی ٹیمیں بھی چلنے نہیں دینگے۔ اس موقع پرہسپتال ھٰذا کی ایم ایس ڈاکٹرنگہت مراد کا کہنا تھا کہ 30نرسنگ پوسٹوں میں صرف14پُرہوسکے ہیں جن میں 4میل نرسنگ اورباقی فی میل نرسنگ ہی جومارننگ ڈیوٹی دیکر ایوننگ اورنائٹ میں فی میل نرسز نہ ہونے کیوجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ڈی ایچ او ڈاکٹر نیاز محمد نے مظاہرین سے کہا کہ میراتعلق مانسہرہ سے ہے کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تاہم غیر سیاسی طورپر کہتا ہوں کہ آپ لوگ توبہت خوش قسمت ہیں کہ آپکے ایم پی اے، ایم این اے اور سپیکر نے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کی جتنی تگ ودو کی ہے اورکررہے ہیں اُس پر وہ سب خراج تحسین کے لائق ہیں اوراس ہسپتال لے حوالے سے انکی کوششوں اورکاوشوں کی سرکاری خط وکتابت کی پروف بھی دکھا سکتا ہوں اب بھی اسپیکر صاحب کی وساطت سے صوابی میں 216کروڑ کی لاگت سے بچوں کیلئے ایک بہت بڑے 250بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کی کوششیں ہورہی ہیں مگر ڈاکٹروں کی تعیناتی کا مسئلہ الگ ہیں اسکے لئے بہت لمباچوڑا پراسس سے گزرنا پڑتا ہے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی صرف صوابی میں نہیں یہ مسئلہ صوبہ گیر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More