غنی مجید ۔حسین لوائی کیلئےسندھ حکومت سہولت کاربن گئی

0

کراچی(اسٹاف رپورٹر)منی لانڈرنگ اورجعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتارملزمان کی سہولت کاری کیلئے حکومت سندھ کھل کر سامنے آگئی ۔انور مجید کے بعد اب ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی اڈیالہ جیل منتقلی سے بچانے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ 7 جنوری کو عدالت میں کیس کی سماعت سے دو روز قبل ہی اے جی مجید اور حسین لوائی کو اڈیالہ جیل سے کراچی لایا گیا۔ 7جنوری کو ہی پنجاب واپس بھیجنے کے واضح احکامات کے باوجود اسپتال میں دانتوں کا معائنہ کرانے کی اجازت مانگ لی گئی۔ دونوں قیدی تا حال کراچی کی ملیر جیل میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق میگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید ان کے بیٹے عبدالغنی مجید اور سمٹ بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو سپریم کورٹ نے کراچی کی جیل سے پنجاب کی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے حق میں نہیں تھی تاہم سپریم کورٹ کے احکامات کے باعث متعلقہ انتظامیہ انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے پر مجبور ہوگئی ۔ڈاکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر انور مجید کو تاحال اڈیالہ جیل منتقل نہیں کیا گیا ہے۔ این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹر نے موقف اختیار کیا تھا کہ انور مجید بستر سے پاؤں نیچے رکھنے کے بھی قابل نہیں ہیں اور طیارے میں سفر بھی نہیں کرسکتے ۔ اس لئے انہیں اسپتال میں ہی رہنے دیا جائے جبکہ عبدالغنی عرف اے جی مجید اور حسین لوائی کو نومبر کے آخر میں کراچی ملیر جیل سے طیارے کے ذریعے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیا تھا ۔ بعدازاں انہیں 6دسمبر کو بینکنگ کورٹ کراچی میں سماعت کے باعث اڈیالہ جیل سے واپس لایا گیا۔ تاہم دوسرے دن مذکورہ قیدی واپس نہ پہنچنے پر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ میں کھلبلی مچی اور اس سلسلے میں پنجاب کا محکمہ جیل خانہ جات اورمحکمہ داخلہ حرکت میں آگیا اور جب حکام نے سندھ کے محکمہ داخلہ سے رابطہ کیا تو سندھ کے محکمہ داخلہ کے حکام کو بھی بعد میں پتا چلا کہ مذکورہ دونوں قیدی واپس نہیں گئے بلکہ انہیں ملیر جیل میں رکھا گیا جنہیں 10 دسمبر 2018کو کیس کی دوبارہ سماعت کے بعد واپس بھیجا جائے گا۔ اس طرح مذکورہ قیدیوں پھر 21دسمبر کو عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر واپس لایا گیا۔ اس کے بعد 7جنوری کو کیس کی سماعت ہونے کے باعث انہیں اڈیالہ جیل سے واپس لاکر عدالت میں پیش کرنے کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کیا گیا لیکن اس مرتبہ انہیں لانے کیلئے سندھ پولیس کی ٹیم کو روانہ کیا گیا اور سندھ پولیس انہیں کیس کی سماعت سے دو روز قبل ہی کراچی لے آئی۔ ماضی کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات مظفر عالم صدیقی نے 7جنوری کو ہی لیٹر جاری کیا کہ مذکورہ دونوں قیدیوں کو 7 جنوری کی ہی واپس اڈیالہ جیل پہنچایا جائے لیکن 8جنوری سے آئی جی جیل خانہ جات مظفر عالم صدیقی کے تربیتی کورس کے سلسلے میں امریکہ جانے کی وجہ سے ڈی آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر کو قائم مقام آئی جی جیل خانہ جات کا عارضی طور پر اضافی چارج دیا گیا تو انہوں نے مذکورہ قیدیوں کو واپس بھیجنے کے بجائے پہلی فرصت میں صوبائی محکمہ داخلہ کو لیٹر ارسال کیا کہ قیدی عبدالغنی مجید کو دانتوں میں تکلیف ہے اور انہیں معائنے کیلئے التمش اسپتال لے جانے کا این او سی جاری کیا جائے ،قائم مقام آئی جی جیل خانہ جات کے اس قسم کے لیٹر اور قیدیوں کو بروقت منتقل نہ کرنے کے عمل نے صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام کو حیران کردیا۔ کیونکہ اے جی مجید اب ملیر جیل نہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قیدی ہیں اور جیل مینوئل کے مطابق اگر کسی بھی قیدی کو کوئی بیماری وغیرہ ہے تو ا سے اسپتال لے جانے کیلئے اقدامات کی ذمہ داری متعلقہ جیل کی انتظامیہ کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ تمام کھیل کے پیچھے سیاسی اثر و رسوخ شامل ہے کیونکہ آج بھی سندھ کی جیلوں کے انتظامی امور پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے سے ہٹائے گئے سابق آئی جی جیل کا اثر و رسوخ حاوی ہے اور اس کی رائے میں شامل افسران کو بھی نوازا جاتا رہا جس کا ثبوت جیل پولیس کے گریڈ 18کے جونیئر ترین افسر کو دوبارہ سینٹرل جیل کراچی کا سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا جانا ہے جبکہ ملیر جیل انتظامیہ پر بھی مذکورہ افسر کی رائے میں شامل افسر کا بھی کنٹرول ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ قائم مقام آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے اے جی مجید کو اسپتال لے جانے کی جو اجازت طلب کی گئی ۔ اس کا مقصد انور مجید کی طرح اے جی مجید کو بیماری کے بنیاد پر اڈیالہ جیل منتقل ہونے سے بچانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے بینکنگ کورٹ میں مذکورہ کیس کی سماعت اب 23جنوری کو ہے اور مذکورہ کیس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ ایم پی اے فریال تالپر کی ضمانت بھی 23جنوری تک ہوچکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی استدعا پر ہی مندرجہ بالا تینوں ملزمان کو کراچی سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم سنایا تھا کیونکہ ایف آئی اے حکام نے موقف اختیار کیا تھا کہ کراچی کی جیل میں ہونے کے باعث انہیں ملزمان سے تفتیش کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ اس سلسلے میں بعض صوبائی حکومت کے ادارے تعاون نہیں کرتے اور ملزمان کو سہولیات بھی حاصل ہیں۔ ان سے جس قسم کی تفتیش ہونا چاہئے وہ نہیں ہوسکتی۔ اب اس حوالے سے مذکورہ ملزمان کیلئے سہولت کاری کے متعلق حکومت سندھ کا کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس ضمن میں موقف جاننے کیلئے قائم مقام آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن فون بند ہونے کے باعث ان سے بات چیت نہیں ہوسکی۔ تاہم اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ممتاز اعوان نے نمائندہ ”امت“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ قیدیوں کی واپسی کیلئے اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے رابطہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو واپس بھیجنے کیلئے پولیس کے اسکواڈ کا بندوبست ہونے میں تاخیر ہوئی ہے ، جیسے ہی اسکواڈ مل جائے گا تو ایک دو روز میں انہیں واپس بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالغنی مجید کو التمش اسپتال میں داخل کرانے کیلئے نہیں بلکہ دانتوں کا معائنہ کرانے کیلئے جانا ہے لیکن ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More