مذاکرات میں طالبان نے امریکہ کو لاجواب کردیا

0

پشاور/ کابل (رپورٹ:محمد قاسم/امت نیوز)افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان طویل مذاکرات کے دوران طالبان کا پلڑا بھاری رہا اور بعض اوقات امریکی حکام طالبان کی سیاست کے داؤ و پیچ کے بھی قائل ہو گئے ۔جن شرائط پر امریکہ افغانستان میں اڈے مانگتا ہے اس سے کم شرائط پر دو اڈے افغانوں کو امریکہ میں دیئے جائیں ۔ملا برادر نے زلمے خلیل زاد اور پنٹا گان کے نمائندے کو چپ کرا دیا ۔ طالبان نے ہرات میں اپنی قید سے 35افغان سرکاری اہلکاروں کو رہا کر دیا۔ دوسری طرف امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد افغان صدر کو مذاکرات پر اعتماد میں لینے کیلئے کابل پہنچ گئے ہیں جبکہ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کا اگلا دور 25 فروری سے متوقع ہے ۔ طالبان کے قریبی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک جنگ بندی نہیں ہوجاتی ، ان کے حملے جاری رہیں گے ۔اس دوران پاکستان نے بھی مذاکرات میں پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے ،فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کوششیں کامیاب ہوں ۔ افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میں آئیں تو اس سے خطے میں استحکام آئے گا ۔اس طرح داعش اور ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے طالبان میز پر آئے ہیں ،پاکستان کا کردار سہولت کار کا ہے ، پاکستان کی بدولت ہی مذاکرات ممکن ہوئے ہیں ،دنیا امن کیلئے ہمارا کردار تسلیم کررہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان اور امریکہ کے نمائندوں کے دوران تقریباً چھ روز تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ۔ کئی بار ڈیڈ لاک پر گھنٹوں مذاکرات معطل ہوتے رہے۔ امریکی حکام بار بار واشنگٹن سے ہدایات لیتے رہے جبکہ طالبان رہنما اسی کمرے میں بیٹھ کر قہوہ پیتے رہے۔ مذاکرات کے قریب رہنے والے ذرائع نے ‘‘امت ’’کو بتایا کہ زلمے خلیل زاد کی قیادت میں مذاکرات کرنے والے گیارہ رکنی امریکی وفد میں پنٹا گان ،سی آئی اے ،وزارت خارجہ اور دیگر حکام شامل تھے جبکہ طالبان کے آٹھ رکنی وفد کی قیادت پہلے ملا عباس استنکزئی جبکہ آخری دو روز ملا عبد الغنی برادر نے کی ۔امریکی حکام کا یہ خیال تھا کہ طالبان صرف لڑائی کے ماہر ہیں اور یہ مذاکرات میں امریکی حکام کے تعلیمی معیار اور سفارتکاری کے تجربے کے سامنے ہار مان جائیں گے تاہم امریکی حکام اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب ملا برادر سے کہا کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم جو آپ سے پہلے مذاکرات کر رہی تھی اڈوں کے حوالے سے موقف میں نرمی نہیں لا رہی ہے اور امریکا کو افغانستان میں کچھ وقت کے لئے اڈے چاہئیں جس کے جواب میں ملا عبد الغنی برادر نے زلمے خلیل زاد اور پنٹا گان کے نمائندے سے کہا کہ آپ جن شرائط پر افغانستان میں دو اڈے مانگ رہے ہیں انہی شرائط پر افغانوں کو امریکا میں دو اڈے دیدیں ۔ہم افغانستان میں آپ کو دو اڈے دیدیں گے ۔اس جواب کو سن کر خلیل زاد اور پنٹا گان کا نمائند ہ حیرت زدہ رہ گیا۔ملا برادر نے انہیں بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے طالبان نے افغانستان سے باہر ایک بھی کارروائی نہیں کی لہذا امریکیوں کو اڈوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ایک موقع پر زلمے خلیل زاد نے ملا برادر سے کہا کہ افغان حکومت سے بات چیت کی جائے یہ افغان عوام کے نمائندہ ہیں ۔ جس پر ملا برادر نے خلیل زاد کو بتایا کہ جس طرح جان کیری نے افغانستان میں معاہدہ کرایا اسی طرح افغان طالبان کو دنیا کے کسی ملک میں معاہدہ کرانے کا حق دیا جائے ۔کیا امریکی عوام یہ حق کسی کو دیں گے کہ امریکی صدر کی جیت کی صورت میں اس کے مخالف کو امریکا میں چیف ایگزیکٹیو بنا کر ان کو وہی اختیارات تفویض کئے جائیں جو افغانستان میں ڈاکٹر عبد اللہ کو امریکہ نے دلوائے ہیں ۔ ذرائع نے امت کو بتایا کہ ملا برادر نے کہا کہ افغان طالبان کے تمام وہ لوگ جو ان مذاکرات میں شامل ہیں ان کے پاس معاہدہ کرنے کا اختیار ہے ۔قابل قبول معاہدہ ہو تو ہم آج دستخط کرنے کو تیار ہیں لیکن آپ لوگ بار بارواشنگٹن سے ہدایات لے رہے ہیں ۔ہم افغانوں کا یہ طریقہ کار ہے کہ جب ہم جرگے میں بیٹھتے ہیں تو ہم اختیار کے ساتھ بیٹھتے ہیں لہذا ہمارے پاس امریکا کے ساتھ ہر قسم کے معاہدے کا اختیار ہے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں پر مذاکرات کرنے والا امریکی وفد بے اختیار ہے اور بار بار واشنگٹن سے ہدایات لینی پڑرہی ہیں ۔ مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ختم ہونے والے مذاکرات میں امریکہ نے افغانستان میں موجود 14ہزار فوجیوں میں سے نصف اپریل تک نکالنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ باقی آئندہ برس تک واپس بلا لیے جائینگے ۔تاہم کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ان امور پر مزید تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ فریقین نے 25فروری کو مذاکرات کے پانچویں دور پر اتفاق کیا ہے ،جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی ہوگا۔ طالبان ترجمان نے اتوار کومختصر بیان ٹوئٹر پر جاری کیا جس میں مزید وضاحت کی گئی کہ 18ماہ میں امریکی انخلا کا کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا۔ ادھر افغان طالبان نے خیر سگالی کے طور پر ہرات میں اپنی قید سے 35افغان سرکاری اہلکاروں کو رہا کر دیا ۔ان اہلکاروں کو افغان طالبان نے کئی ماہ پہلے مختلف علاقوں سے یرغمال بنایا تھا ۔ان میں اکثریت سرکاری حکام اور انٹیلی جنس اداروں سے تھی ۔رہا ہونے والوں میں عبد الطیف ،شیر احمد،بسم اللہ، عبد القادر،نوراحمد،مصطفی،عبد الواحد،سید ابراہیم،نورعالم،غلام حضرت،گل آغا،سید اشرف،نذر محمد،سمیع اللہ،محمد،فضل احمد، حضرت علی،بختیار،محمد اکبر،محمد حفیظ،محبوب اللہ،سمیع اللہ، خالد، حیات اللہ،لعل محمد ،خیبر ،ثابت اللہ،حماد،شمیم،عبد البصیر،عبد الجبار،نثار احمد،نور محمد اور عزیز الرحمان شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More