بے وضو نماز پڑھنے کا وبال

0

حضرت عمرو بن شرحبیلؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو جب مرنے کےبعد دفن کیا گیا تو اس کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ ہم تمہیں خدا کے عذاب میں سے سو کوڑے ماریں گے۔ اس نے اپنے روزوں، نماز اور محنت و ریاضت کا ذکر کیا تو انہوں نے تخفیف کر کے دس کوڑے کر دیئے۔ اس نے دوبارہ بات چیت کی تو معاملہ ایک کوڑے پر آ کر ٹھہر گیا اور کہا کہ بس یہ ضروری ہے، چناں چہ انہوں نے ایک کوڑا مارا تو پوری قبر آگ سے بھر گئی اور اس کو ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو اس نے پوچھا کہ مجھے یہ کوڑا کس غلطی کے بدلے مارا گیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ تو ایک دن سو کر اٹھا تو نے نماز پڑھی، مگر تو نے وضو نہیں کیا تھا اور ایک مرتبہ ایک مظلوم شخص نے مدد مانگی تو نے مدد نہیں کی۔
جنابت میں رہنے والا
حضرت ابن البجلیؒ کا بیان ہے کہ ہمارا ایک پڑوسی وفات پا گیا، ہم نے اس کی تجہیز و تکفین کے لیے جب قبر کھودی تو اس میں سے بلی کے مشابہ ایک جانور نمودار ہوا، اس کو قبر سے بھگانے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن وہ نہ بھاگا، گورکن نے کدال اس کی پیشانی پر ماری، مگر پھر بھی وہ نہ بھاگا۔ مجبور ہو کر دوسری قبر کھودی گئی، اس قبر میں بھی اسی طرح جانور نکل آیا اور کسی طرح سے بھی وہ جانور وہاں سے نہ ہٹا۔ ہم مجبور ہو کر تیسری قبر کھودنے لگے، جب تیسری قبر کی لحد تیار ہوئی تو اچانک وہ جانور اس سے بھی نکل پڑا اور کسی صورت نہ بھاگا، ہم لوگ مجبور ہو گئے اور اسی میں میت کو دفن کر دیا۔
دفن کے بعد ہم نے اس کی ہڈیوں کی آواز سنی، یہ ایسا عجیب واقعہ تھا کہ پہلے کبھی پیش نہ آیا تھا، ہم نے اس مردہ کی بیوی سے واقعہ بیان کر کے دریافت کیا کہ تیرا خاوند کیا عمل کرتا تھا؟ تو اس نے بتایا کہ وہ غسل جنابت نہیں کرتا تھا۔
بے وضو نماز پڑھنے والی عورت
حضرت عمرو بن دینارؒ کا بیان ہے کہ مدینہ میں رہنے والے ایک شخص کی بہن کا انتقال ہوا تو اس کی تجہیز و تکفین کر کے قبر میں دفن کر دی گئی، اس کی تدفین کے بعد بھائی جب گھر آیا تو اس کو یاد آ گیا کہ ایک تھیلی قبر ہی میں بھول آیا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور بہن کی قبر پر جا کر قبر کھودی اور اپنی تھیلی لے لی، پھر اس نے اپنے دوست سے کہا کہ تم ذرا ایک کنارے ہو جاؤ، میں دیکھوں کہ میری بہن کس حالت میں ہے، دوست الگ ہو گیا اور اس نے لحد پر سے اینٹ کھول کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے کہ قبر شعلے مار رہی ہے۔ اس نے فوراً اینٹ اپنی جگہ پر رکھ کر قبر کو بند کر دیا اور گھر آ کر اپنی ماں سے اس کا حال پوچھا۔ ماں نے کہا وہ نماز دیر کر کے پڑھا کرتی تھی اور میرا خیال ہے کہ وہ کبھی بے وضو بھی نماز پڑھتی تھی اور پڑوسی جب سو جاتے تو ان کے دروازوں پر جا کر کان لگاتی اور ان کی باتیں سن کر ادھر ادھر پھیلاتی تھی۔ (سلف صالحین کے ایمان افروز واقعات)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More