بھارت کا چھوٹا بھائی بننا قبول نہیں، بنگلہ دیش کا دوٹوک اعلان
بنگلہ دیش نے بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ باہمی تعلقات خود مختاری اور عدم مداخلت پر استوار ہوں گے۔
بھارت کا چھوٹا بھائی بننا قبول نہیں، بنگلہ دیش کا دوٹوک اعلان
بھارت جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔ اس کی بنیادی وجہ سرحدی تنازعات، ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور داخلی سیاست کو خارجہ پالیسی پر ترجیح جیسے عوامل ہیں۔ انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کی وجہ سے اس وقت بھارت کے اپنے 7 ہمسایہ ممالک میں سے 6 کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بالخصوص بی جے پی کی موجودہ حکومت نے جب سے بھارت کی سیاست پر غلبہ حاصل کیا ہے اس کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشمکش بھی انہی بھارتی پالیسیوں کے قدرتی ردعمل کی ایک مثال ہے۔ بھارت کے اسی رویے کی بنا پر بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے انہیں بِمسٹیک کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے پیشِ نظر ڈھاکہ نے دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ تو کئی دہائیوں سے چلا آ رہا تھا لیکن یہ تناؤ عوامی سطح پر نمایاں تھا جبکہ بیگم حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت بنگلہ دیش کے عوامی احساسات کی ترجمانی کرنے کے بجائے بھارت مخالف آوازوں کو کچلنے پر کمر بستہ تھی۔
عوام کو اس بری طرح سے نظر انداز کیا جا رہا تھا کہ ان کا غصہ اندر ہی اندر ایک آتش فشاں بن چکا تھا جو حالیہ طلبہ تحریک کی صورت میں پھٹ پڑا اور حسینہ واجد کو ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ بھارت کے ساتھ خراب تعلقات کی وجوہات میں طلبہ بغاوت کے بعد حسینہ کا بھارت میں پناہ لینا اور پانی کا تنازع یعنی تیستا معاہدہ جو 10 سال سے لٹکا ہوا ہے، سر فہرست ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب بھارت میں مقیم بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کی، جس پر ڈھاکہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے بنگلہ دیش اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے دورہ بھارت سے پہلے واضح پیغام دیا کہ جب تک شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا جائے گا اس وقت تک بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے۔ بنگلہ دیش نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات باہمی برابری اور احترام کی بنیاد پر قائم ہوں گے، نہ کہ بھارتی ترجیحات یا کسی قسم کے دباؤ کے تحت۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت پر واضح کیا ہے کہ قومی مفاد پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کو بھارت میں پناہ دینے اور نئی دہلی سے سیاسی بیانات جاری کرنے کی اجازت دینے پر کھل کر احتجاج کیا ہے۔ ڈھاکہ نے اسے دوطرفہ اعتماد کے لیے انتہائی قابل اعتراض قرار دیا ہے۔ ڈھاکہ کا واضح مطالبہ شیخ حسینہ اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی ہے۔ بھارت پر واضح کر دیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اب وسیع تر تعلقات کی خاطر اس معاملے کو پسِ پشت نہیں ڈالے گا۔
بنگلہ دیش کے موقف کے مطابق یہ صرف ایک شخصیت کا معاملہ نہیں ہے یہ خود مختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا سوال بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بڑا بھائی، چھوٹا بھائی والا ڈھانچہ ناقابل قبول ہے۔ مستقبل کے تعلقات خود مختار مساوات کی بنیاد پر ہوں گے۔ شیخ حسینہ واجد کے معاملے کے بعد ڈھاکہ کے رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش اب اپنی خارجہ پالیسی میں بنگلہ دیش فرسٹ کے اصول کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے جس کا بنیادی مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور فیصلوں میں خود مختاری برقرار رکھنا ہے۔
اس پالیسی کے تحت ڈھاکہ کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ غیر ضروری وابستگی کے بجائے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں نئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس میں خطے کے ممالک کے تمام ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رشتہ بنیادی جز قرار دیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط اور بڑھتا ہوا تعاون بنگلہ دیش کی گہری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ چین کے ساتھ تجارت، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، رابطوں اور اسٹریٹجک تعاون میں توسیع بھارت کے لیے ایک بڑا جغرافیائی اور سیاسی چیلنج ہے۔
تیستا پانی کی تقسیم جیسے طویل عرصے سے غیر حل شدہ مسائل بنگلہ دیش کو متبادل شراکت داریاں تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کا موجودہ موقف جنوبی ایشیا کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ چھوٹی ریاستیں اب کسی ایک علاقائی طاقت پر انحصار کے بجائے اسٹریٹجک خود مختاری چاہتی ہیں۔ ڈھاکہ نے اپنے موقف سے واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بنگلہ دیش سیاسی طور پر کسی دوسرے ملک کا تابع ہو۔ بنگلہ دیش نے بھارتی حکومت کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اگر نئی دہلی واقعی مستحکم اور دیرپا تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے یکطرفہ توقعات کے بجائے باہمی احترام، مساوات اور دوطرفہ مفاد پر مبنی تعلقات کو ترجیح دینا ہوگی۔ ڈھاکہ کا پیغام واضح ہے کہ دوستی جاری رہے گی، لیکن برابر کی سطح پر، تعاون ہوگا، لیکن خود مختاری کی قیمت پر نہیں۔ بنگلہ دیش حکومت کے اصولی موقف نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھارت کی شرائط پر نہیں ہوگی بلکہ بنگلہ دیش کے قومی مفاد اور خود مختاری کی بنیاد پر ہوگی جو جنوبی ایشیا کے علاقائی توازن میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش کے حوالے سے نئی صورتحال نے بھارت کی اس روایتی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں جس کے تحت وہ اپنے پڑوسی ممالک کو اپنے اسٹریٹجک دائرہ اثر میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارت کے لیے جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی سیاست ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی نئے مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ اس بات کے امکانات روشن ہوئے ہیں کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ماضی کی تلخیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ایسے مستقبل کی تعمیر کی طرف آگے بڑھے جو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے دوستی اور ترقی کی راہیں روشن کر دے۔