امریکا سمیت اتحادیوں کا ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان

چاروں مغربی ممالک عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

September 5, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بار پھر عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے، امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جانے کی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چاروں مغربی ممالک عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مجوزہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ضروری رسائی فراہم کرے۔

ذرائع کے مطابق اگر قرارداد منظور ہوگئی تو آئی اے ای اے سے ایران کے جوہری عدم تعاون کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اس طرح تقریباً دو دہائیوں بعد ایران کا جوہری معاملہ دوبارہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آسکتا ہے۔

مغربی ممالک کو ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی محدود کیے جانے پر تشویش ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر بھی تحفظات ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایران کے پاس 9.440 ٹن افزودہ یورینیم موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کی صورت میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ ایک بار پھر عالمی سفارتی سطح پر اہم بحث بن سکتا ہے۔

تاہم ایران کی جانب سے اس معاملے پر مؤقف اور آئندہ کے اقدامات صورتحال کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔