اقوامِ متحدہ کا نیا عالمی نقشہ،افریقا دنیا کا سب سے بڑا برِاعظم قرار

افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔

September 5, 2026 · بام دنیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی نقشے میں براعظموں اور ممالک کے رقبے کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں ظاہر کرنے کی کوشش کی حمایت کردی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، ایک ملک نے مخالفت کی جبکہ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

یہ اقدام ٹوگو کی قیادت میں جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد دنیا کے معروف نقشوں میں افریقا کے حقیقی جغرافیائی حجم کو زیادہ درست انداز میں پیش کرنا ہے۔

صدیوں سے استعمال ہونے والے مرکیٹر نقشے میں قطبین کے قریب واقع علاقوں کا حجم ان کے حقیقی رقبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال گرین لینڈ اور افریقا ہیں، جو نقشے پر تقریباً یکساں حجم کے نظر آتے ہیں، حالانکہ افریقا کا رقبہ گرین لینڈ سے کئی گنا زیادہ ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ مرکیٹر نقشے کی یہ خصوصیت یورپ اور شمالی علاقوں کو نسبتاً بڑا ظاہر کرتی ہے، جس کے باعث بعض حلقوں میں اسے نوآبادیاتی دور کے تصورات اور مغربی غلبے کے تاثر سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔

قرارداد میں ایسے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو براعظموں کے رقبے کو زیادہ درست تناسب کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان میں ایکول ارتھ طرز کا نقشہ بھی شامل ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی یہ قرارداد قانونی طور پر لازمی نہیں ہے اور سمندری یا فضائی نیویگیشن کے لیے مرکیٹر نقشے کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کرتی۔ ان شعبوں میں یہ نقشہ اب بھی بعض مخصوص مقاصد کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ امریکی مؤقف تھا کہ یہ اقدام ایک نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے اور عالمی امن، خوش حالی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔

ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے اس مہم کو جغرافیائی نمائندگی میں انصاف کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصفانہ دنیا کے لیے منصفانہ نقشہ بھی ضروری ہے۔

مہم کے منتظمین کے مطابق اب توجہ نئے اور زیادہ درست نقشوں کو اسکولوں، نصابی کتب، میڈیا، کاروباری اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچانے پر مرکوز ہوگی۔ ٹوگو نے رواں سال کے اختتام تک اپنے تعلیمی جغرافیہ کے مواد میں تبدیلی لانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد افریقا کو غیر معمولی طور پر بڑا دکھانا نہیں بلکہ دنیا کے سامنے اس کا حقیقی جغرافیائی حجم درست تناسب کے ساتھ پیش کرنا ہے۔