فاٹا انضمام کی مخالفت کی تو امریکی افسر گھر آگیا، مولانا فضل الرحمان

اگر ایک فیصلہ ایک وقت میں ناگزیر قرار دیا جائے اور بعد میں اسے غلط کہا جائے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں؟

September 8, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا( ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا( ایکس)

 

لاہور: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ جب انہوں نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی تو ایک امریکی افسر ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر آیا اور انضمام کو ضروری قرار دیا۔

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے معاملے پر ان کا مؤقف یہ تھا کہ قبائلی علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرکے فیصلہ کیا جائے، تاہم ان کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ان سے فاٹا انضمام کی مخالفت کی وجہ دریافت کی تھی اور اسے ضروری قرار دیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے جنرل باجوہ کے سامنے اپنے تحفظات رکھے، جس کے چند روز بعد ایک امریکی افسر ان کے گھر آیا اور اس نے بھی فاٹا انضمام کی مخالفت کی وجہ پوچھتے ہوئے اسے ضروری قرار دیا۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ آج انہیں ایک جنرل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک فیصلہ ایک وقت میں ناگزیر قرار دیا جائے اور بعد میں اسے غلط کہا جائے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں؟

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں صوبوں کی تشکیل یا تقسیم جیسے اہم فیصلے یک طرفہ طور پر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ عوام اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلوں کے پیچھے قومی مفاد ہونا چاہیے اور اس حوالے سے کھلی بحث ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے صوبوں کی تقسیم کے ممکنہ مفادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل معدنی وسائل اور قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کے حصے جیسے معاملات بھی اہم ہیں۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ صوبوں کی تقسیم سمیت قومی نوعیت کے معاملات پر اصولی مؤقف اختیار کریں اور عوام کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جائے۔