یمن میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ،وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ

واقعے کے دوران وزیر دفاع کے محافظوں کو حراست میں لے لیا گیا

September 10, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا ( فیس بک)

فوٹو سوشل میڈیا ( فیس بک)

یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے جہاں صوبہ الضالع میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر حملے اور اسے گھیرے میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے دوران وزیر دفاع کے محافظوں کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کے محصور ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ بعض ذرائع کی جانب سے ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ اور حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی میں متعدد حوثی کمانڈروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان اطلاعات کی بھی مزید تصدیق درکار ہے۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کی موجودہ صورتحال، ہلاکت یا بحفاظت نکلنے کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔