اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو میں سپریم لیڈر کو کال کر رہا کرتا، ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ ڈیلس مین خطاب کر رہے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو میں سپریم لیڈر کو کال کرتا۔
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے ڈیلس میں ری پبلکن پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو میں سپریم لیڈر کو کال کرتا۔ میں کہتا کہ مسٹر سپریم لیڈر، آپ کیسے ہیں، سر؟ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو ہم آپ کے لیے کر سکتے ہیں؟
Trump on Iran:
If Iran had a nuclear weapon, I would be calling the Supreme Leader.
I would be saying, "Mr. Supreme Leader, how are you, sir? Is there anything we can do for you?" pic.twitter.com/XYXn80VV1i
— Clash Report (@clashreport) September 10, 2026
ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سیاست کے اس دوغلے پن کا کھلا اعتراف ہے جو اس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں اپنا رکھا ہے کہ جن ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں ان سے احترام سے بات کی جاتی ہے اور جو یہ ہتھیار حاصل نہیں کرپاتے یا صرف کوشش کرتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایک عام خیال یہ ہے کہ شمالی کوریا پر امریکہ اسی لیے حملہ نہیں کرتا کہ اس کے پاس ایٹم بم ہے۔