فرانس میں انسانی اسمگلنگ کیس،ایپسٹین سے جڑے مزید افراد زیر تفتیش
13 ایسے افراد شامل ہیں جن کے نام اس سے قبل ایپسٹین سے متعلق کسی قانونی کارروائی میں سامنے نہیں آئے تھے
فائل فوٹو
فرانس میں جیفری ایپسٹین سے متعلق مبینہ انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی ہے اور تفتیش کاروں کو خواتین کی مبینہ بھرتی میں ملوث مزید ممکنہ افراد کے نام مل گئے ہیں۔
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق فرانس میں اب تک 26 ممکنہ متاثرین کی شناخت کی جاچکی ہے، جن میں 13 ایسے افراد شامل ہیں جن کے نام اس سے قبل ایپسٹین سے متعلق کسی قانونی کارروائی میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان میں سے 8 افراد سے ابھی تفتیشی حکام نے پوچھ گچھ کرنا ہے۔
فرانسیسی تحقیقات کا دائرہ پیرس کے علاوہ سینٹ ٹروپے اور کانز تک پھیلا ہوا ہے۔ حکام مبینہ نیٹ ورک سے جڑے مختلف افراد اور واقعات کے درمیان تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تفتیش اس وقت بھی جاری ہے جب ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد جولائی میں انتقال کرگئے تھے۔ ان پر ایپسٹین کے لیے خواتین کی مبینہ بھرتی میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا اور وہ تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے سے قبل ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی موت کے بعد تحقیقات میں مزید ممکنہ معاونین کے نام سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
فرانس نے ایپسٹین کیس سے متعلق نئی فائلیں سامنے آنے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ ایپسٹین 2019 میں کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہوگیا تھا۔
فرانسیسی حکام ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ بعض دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لے چکے ہیں، تاہم بعض معاملات میں مبینہ جرائم کی قانونی مدت گزرنے کے باعث مزید کارروائی ممکن نہیں ہوسکی۔