ہری پورمیں خاتون کانسٹیبل کو ہراساں کرنے پر ایک ملزم گرفتار،برادرنسبتی پولیس ملازم فرار
مقدمہ درج ۔واٹس ایپ ہیک کرنے،دھمکیاں دینے اور ناجائز تعلقات کے لیے رقم مانگنے کاالزام
فائل فوٹو
ہری پور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے اور سنگین دھمکیاں دینے کے الزام میں خاتون اہل کار کے پولیس ملازم بہنوئی سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ خان پور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، فرار پولیس ملازم کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ہری پور پولیس کی لیڈی کانسٹیبل مسماۃ آمنہ کوثر دختر خضر خان (سکنہ منگ، ہری پور) نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہری پور کو ایک تحریری درخواست دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ باندی منیم کا رہائشی لڑکا علی ولد نثار گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں مسلسل فون کالز اور میسجز کے ذریعے ہراساں کر رہا تھا، راستے میں تعاقب کر کے پریشان کرتا تھا اور ناجائز تعلقات استوار کرنے کے لیے پیسوں کا تقاضا بھی کرتا تھا۔
خاتون کانسٹیبل کے مطابق، ان کا موبائل نمبر علی کو فراہم کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا بہنوئی افضال ولد اقبال (سکنہ منگ) ہے جو خود بھی محکمہ پولیس میں ملازمت کرتا ہے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ ان دونوں ملزمان نے ان کا واٹس ایپ (WhatsApp) اکاؤنٹ بھی ہیک کر رکھا تھا جس کا وہ غلط استعمال کرتے رہے۔ انکار کرنے پر ملزمان خاتون کانسٹیبل کے گھر فون کر کے ان کے بھائیوں کو بھڑکاتے رہے اور اب انہیں جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے ان کی اور ان کے خاندان کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
ڈی پی او ہری پور کے احکامات پر خان پور پولیس اسٹیشن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعات 506، 509 اور 25D ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خان پور پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے قبل مبینہ طور پر اپنے پیٹی بند بھائی (ملزم افضال) کو آگاہ کر دیا تھا جس کے باعث وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، تاہم پولیس نے روایتی مستعدی دکھاتے ہوئے دوسرے ملزم علی ولد نثار کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے پولیس ملازم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔