عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 8 فیصد بڑھ گئیں

کاروباری ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.02 ڈالر کی کمی ہوئی اور یہ 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.43 ڈالر کم ہوکر 100.05 ڈالر فی بیرل رہی

September 12, 2026 · کامرس
فائل فوٹو

فائل فوٹو

 عالمی تیل کی منڈی میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے 8 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔

کاروباری ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.02 ڈالر کی کمی ہوئی اور یہ 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.43 ڈالر کم ہوکر 100.05 ڈالر فی بیرل رہی۔ تاہم ہفتہ وار بنیاد پر دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے عارضی انتظام کی ممکنہ کوششوں کی اطلاعات کے باعث جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی، تاہم عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن کے قریب دھویں کے مناظر سیٹلائٹ تصاویر میں سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر خام تیل کی ترسیل میں اہم سہولت فراہم کرتی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق حملوں کے اثرات کے باعث اگست میں سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی میں روزانہ 23 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی اور یہ 60 لاکھ بیرل یومیہ تک رہ گئی، جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

ادھر عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ابتدائی بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 11 سے کم ہوکر 7 رہ گئی۔

یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم تک پہنچنے کی اطلاعات نے بھی عالمی توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

روس کی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے اثرات امریکی ایندھن مارکیٹ تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ قیمتوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن کی سطح سے تجاوز کرگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں بحری نقل و حمل کے مسائل اور روسی ریفائنریوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں برقرار رہیں تو ڈیزل اور دیگر تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی آسکتی ہے۔

جرمن بینک کومرز بینک نے بھی سال کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ ڈیزل اور ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں کے اندازوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔