لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد پر ہنگامہ آرائی، مرحوم کارکن کے گھر تلخ کلامی اور پولیس وین کا تنازعہ

سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران کارکن کے گھر شدید شکوے پر سکیورٹی کا مبینہ تشدد اور پنجاب پولیس کی تحویل کا دعویٰ سامنے آ گیا۔

September 15, 2026 · قومی
لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد پر ہنگامہ آرائی، مرحوم کارکن کے گھر تلخ کلامی اور پولیس وین کا تنازعہ

لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آمد پر ہنگامہ آرائی، مرحوم کارکن کے گھر تلخ کلامی اور پولیس وین کا تنازعہ

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے گھر تعزیت کے لیے پہنچنے والے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورے کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ دستیاب خبر رساں اداروں اور وائرل ویڈیوز کے مطابق، جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ مرحوم کے گھر تعزیت کے لیے گئے تو اہلخانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

موصولہ اطلاعات اور فراہم کردہ رپورٹس کے مطابق، اشتیاق احمد 17 دن تک اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد جاں بحق ہوئے تھے، اور اہلخانہ نے شکوہ کیا کہ اس طویل عرصے کے دوران پارٹی کی طرف سے کسی نے ان کی خبر نہیں لی۔ اسی تلخ کلامی اور شکوے کے دوران مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کے سکیورٹی گارڈ نے فیملی کے ایک فرد پر تشدد کیا۔ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کے ویڈیو بیان کے مطابق، جب فیملی کو سیاسی گفتگو سے منع کیا گیا تو سکیورٹی کی جانب سے بدمزگی شروع ہوئی۔

دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرحوم کے اہلخانہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ موت ایک حادثہ تھا جس سے حکومت یا پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے لاہور آئے ہیں، جبکہ کوہاٹ میں کوئلے کی کان میں مزدوروں کی ہلاکتوں کے باوجود وہ وہاں جانے کے بجائے لاہور کے دورے پر ترجیح دے رہے ہیں۔

واقعے کے اگلے مرحلے میں لکشمی چوک اور مال روڈ پر ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پولیس کی پریزن وین میں جا بیٹھے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے اصرار کے باوجود وہ وین سے باہر نہیں آئے، جس کے بعد پولیس وین انہیں لے کر روانہ ہو گئی۔ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے انہیں اغوا کیا اور ویرانے یا سڑک پر لا کر پھینک دیا، جبکہ وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے بھی اس عمل کو منتخب وزیراعلیٰ کی تذلیل قرار دیا۔ اس کے برعکس، عظمیٰ بخاری نے اس واقعے کو ایک سیاسی ڈراما قرار دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی خود بخود پولیس گاڑی میں بیٹھے تھے تاکہ سستی شہرت حاصل کی جا سکے۔