پنجاب میں پریشر ہارن بجانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ہنگامی مراکز اور دیگر حساس مقامات پر غیر ضروری ہارن بجانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

September 15, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور: پنجاب میں پریشر ہارن کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبے بھر میں آج سے پریشر ہارن استعمال کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کی ہدایت کردی۔

ٹریفک حکام کے مطابق تمام چیف ٹریفک افسران اور ضلعی ٹریفک افسران کو کارروائی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ہنگامی مراکز اور دیگر حساس مقامات پر غیر ضروری ہارن بجانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکام نے مسلسل اور بلاوجہ ہارن بجانے والے ڈرائیوروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں سے پریشر ہارن فوری طور پر اتار دیں، بصورت دیگر انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے غیر ضروری استعمال پر 3 لاکھ 83 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے جاچکے ہیں۔ لاہور میں بھی ہارن کے غلط استعمال پر 48 ہزار افراد کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے۔

ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے استعمال سے صوتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بلند آواز انسانی سماعت اور اعصابی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ جاری کارروائیوں کے باعث شور کی آلودگی میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور ضرورت کے بغیر ہارن بجانے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق سڑکوں پر شور کم کرنے سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ محفوظ اور پرسکون ڈرائیونگ کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہوگا۔