ڈیرہ اسماعیل خان میں نہر کا بند ٹوٹ گیا،200 سے زائد گھرانے متاثر
نہری پانی آبادی میں داخل ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)ڈیرہ اسماعیل خان میں نہر کا بند ٹوٹ گیا،200 سے زائد گھرانے متاثر
ڈیرہ اسماعیل (اُمت نیوز)ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑپور کے قریب سی آر بی سی بڑی نہر کا بند ٹوٹنے سے نہری پانی آبادی میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں 200 سے زائد گھرانے متاثر ہوئے اور متعدد دیہات زیرِ آب آگئے۔
نہری پانی آبادی میں داخل ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ متاثرین کو پہاڑپور کے مختلف سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں عارضی طور پر ٹھہرایا جا رہا ہے۔
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ خاندانوں کو کھانا، پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں امدادی اور انتظامی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان نے رات گئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ تاہم متاثرہ شہریوں کی جانب سے پانی کی نکاسی اور متاثرین تک خوراک و دیگر امدادی سامان کی بروقت فراہمی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق سی آر بی سی نہر ٹوٹنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ سال بھی کاٹھ گڑھ کے قریب نہر میں شگاف پڑنے سے شہریوں اور کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا، تاہم بار بار پیش آنے والے واقعات کے باوجود نہر کی مستقل مرمت اور کمزور حصوں کی بحالی نہیں ہوسکی۔
مقامی افراد اور کاشتکاروں نے محکمہ آبپاشی پر مبینہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر افراد کی جانب سے مین کینال میں بڑے پائپ نصب کرکے مبینہ طور پر پانی چوری کیا جاتا ہے، جس کے باعث نہر کے کنارے مختلف مقامات پر کمزور ہوچکے ہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریباً 25 برس سے نہر کی جامع مرمت اور بحالی کا کام نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق 2010 اور 2021 کے سیلابوں کے دوران بھی نہر کو شدید نقصان پہنچا، تاہم مستقل بحالی کے بجائے مختلف مقامات پر عارضی مرمت اور پانی کے اخراج میں کمی جیسے اقدامات کیے جاتے رہے۔
متاثرین اور کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہر ٹوٹنے کی وجوہات کا غیر جانب دارانہ تعین کیا جائے، مبینہ پانی چوری کی تحقیقات کی جائیں اور نہر کی مستقل بنیادوں پر مرمت و بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں شہریوں اور زرعی زمینوں کو بڑے نقصان سے بچایا جاسکے۔