نئی سائنسی تحقیق، زہر آلود سیارے وینس کا اپنا چاند ہڑپ کرنے کا انکشاف

ماہرین کی نئی توجیہہ، انتہائی سست رفتار گردش، کائناتی تصادم کے انکشافات

September 15, 2026 · اہم خبریں
وینس اور اس کے ماضی کے ممکنہ چاند سے متعلق نئی سائنسی تحقیق کی نمائندہ تصویر

وینس اور اس کے ماضی کے ممکنہ چاند سے متعلق نئی سائنسی تحقیق کی نمائندہ تصویر

کیلیفورنیا کے ماہرینِ فلکیات نے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس کے مطابق زمین سے مشابہت رکھنے والا سیارہ وینس (زہرہ) ممکنہ طور پر اپنے ہی چاند کو نگل گیا ہے۔ دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، وینس کی اپنے محور پر انتہائی سست رفتاری نے کسی بھی قدرتی سیارے کو آہستہ آہستہ اس کے قریب کھینچنے اور بالآخر ایک تباہ کن تصادم میں نگل جانے پر مجبور کر دیا۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور کیلیفورنیا یونیورسٹی ریور سائیڈ کے ماہرِ فلکیات اسٹیفن کرین کے مطابق اگر ماضی میں اس سیارے کا کوئی چاند تھا بھی، تو وہ اسے برقرار نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ وہ نسبتاً کم عرصے میں سیارے پر آگرتا۔ کمپیوٹر ماڈلز کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مبینہ چاند کو ہڑپ کرنے کا واقعہ وینس کی تاریخ کے پہلے 1 ارب سال کے دوران رونما ہوا ہوگا، جب کہ نظامِ شمسی کی کل عمر تقریباً 4.5 ارب سال ہے۔

ماہرین کے مطابق زمین اپنے محور پر ہر 24 گھنٹے میں گردش مکمل کرتی ہے، جبکہ وینس کو ایک گردش مکمل کرنے میں 243 زمینی دن لگتے ہیں۔ زمین کی تیز رفتار گردش کی وجہ سے توانائی کی منتقلی ہمارے چاند کو آہستہ آہستہ دور دھکیل رہی ہے، جو ہر سال 4 سینٹی میٹر کی رفتار سے زمین سے دور ہو رہا ہے۔ وینس پر ماحول انتہائی گرم ہے جہاں درجہ حرارت 471 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جو سیسے کو بھی پگھلا سکتا ہے۔ سائنسی حلقے اب ناسا کے آئندہ مشنز سے اس سیارے کے مزید راز جاننے کے منتظر ہیں۔