اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے ایران جنگ میں امریکا کو جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرا دیا
میناب میں شاجارہ طیبہ پرائمری اسکول ایک واضح شہری تنصیب تھا اور تحقیقات کے دوران اس کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے ایران جنگ میں امریکا کو جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرا دیا
اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد تحقیقاتی مشن نے فروری میں ہونے والے دو امریکی حملوں کے بارے میں اہم نتائج جاری کردیے۔ مشن کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ سمجھنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ امریکی افواج ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول اور لامرد میں ایک کھیلوں کے مرکز پر کیے گئے حملوں میں ملوث تھیں، جنہیں تحقیقاتی مشن نے جنگی جرائم قرار دیا ہے۔
تحقیقاتی مشن کے مطابق میناب میں شاجارہ طیبہ پرائمری اسکول ایک واضح شہری تنصیب تھا اور تحقیقات کے دوران اس کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مشن کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کو وہاں ایک ایرانی فوجی کمانڈر کی موجودگی سے متعلق معلومات ملی تھیں، تاہم حملے سے قبل ان معلومات کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسکول پر حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ تحقیقاتی مشن نے حملے کو شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والا غیر امتیازی حملہ قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا۔
مشن نے لامرد کے کھیلوں کے مرکز پر ہونے والے حملے کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تحقیقاتی مشن نے اس حملے کو بھی غیر امتیازی قرار دیتے ہوئے جنگی جرم کے زمرے میں شامل کیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے ہی لامرد میں اس روز کسی امریکی حملے کی ذمہ داری سے انکار کرچکی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیاں جنگی قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی یہ رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں ایران کے اندر ہونے والے مظاہروں کے دوران ایرانی حکام کی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جن کے بارے میں مشن نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق نتائج پیش کیے ہیں