دیشا سالیان کیس میں دو اہم سیاسی رہنماؤں کو 500 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس
دیشا کے والد نے آدتیہ ٹھاکرے اور انیل دیشمکھ سے معافی کا مطالبہ بھی کردیا
فائل فوٹو
کولکتہ: بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جہاں ان کے والد ستیش سالیان نے دو اہم سیاسی رہنماؤں کو 500 کروڑ بھارتی روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کے رہنما اور مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو جاری کیا گیا ہے۔
ستیش سالیان کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ان کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سیاسی محرکات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ نوٹس میں دونوں سے غیر مشروط، غیر مبہم اور بلا کسی تحفظ کے تحریری اور عوامی معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
دیشا سالیان 28 برس کی تھیں جب 8 جون 2020 کو ممبئی کی ایک بلند رہائشی عمارت سے گرنے کے بعد ان کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اس وقت واقعے کو حادثاتی موت قرار دیتے ہوئے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی تھی۔
دیشا کی موت کے صرف چھ روز بعد سشانت سنگھ راجپوت بھی پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے، جس کے بعد دونوں واقعات کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں۔
دیشا کے والد نے بعد ازاں بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرکے مقدمہ درج کرنے اور معاملے کی نئے سرے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی درخواست میں متعدد افراد کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی تحقیقات کی استدعا کی گئی تھی، جن میں آدتیہ ٹھاکرے، ڈینو موریا اور سورج پنچولی کے نام بھی شامل تھے۔
واقعے کے تقریباً چھ سال بعد اب مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے کیس کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔
دوسری جانب آدتیہ ٹھاکرے نے دیشا سالیان سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ ان کی یہ وضاحت سی بی آئی کی جانب سے کیس کی ایف آئی آر میں نام شامل کیے جانے کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔ ایف آئی آر میں کسی شخص کا نام شامل ہونا بذاتِ خود اس کے خلاف جرم ثابت نہیں کرتا اور معاملے کی قانونی کارروائی جاری ہے۔